تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 162
پھر لکھا ہے کہ مؤرخ ڈایو ڈورس سکولس جو مسیحی سنہ سے پچاس <mark>سال</mark> پہلے گذرا ہے وہ بھی لکھتا ہے کہ عرب کا وہ حصّہ جو بحیرۂ احمر کے کنارے پر ہے اُس میں ایک معبد ہے جس کی عرب بڑی عزت کرتے ہیں۔( دیباچہ لائف آف محمد ) پھر لکھتا ہے کہ <mark>قدیم</mark> تاریخوں سے پتہ نہیں چلتا کہ یہ <mark>بنا</mark> کب ہے۔یعنی یہ اتنا پُر<mark>انا</mark> ہے کہ اس کے وجود کا تو ذکر آتا ہے مگر اس کی <mark>بنا</mark>ء کا پتہ نہیں چلتا۔یہ بالکل ال<mark>بیت</mark> العتیق کا ہی مفہوم ہے جو دوسرے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔پھر لکھتا ہے کہ بعض تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ عمالقہ نے اسے دوبارہ <mark>بنا</mark>یا تھا۔اور کچھ عرصہ تک اُن کے پاس <mark>رہا</mark> اور تورات سے پتہ چلتا ہے کہ عمالقہ <mark>حضرت</mark> موسیٰ ع<mark>لی</mark>ہ السلام کے <mark>زمان</mark>ہ میں تباہ ہو ئے تھے (خروج باب ۱۷ آیت ۸تا ۱۶ وگنتی باب ۲۴ آیت ۲۰) گویا <mark>حضرت</mark> موسیٰ ع<mark>لی</mark>ہ السلام کے <mark>زمان</mark>ہ سے بھی بہت پہلے عمالقہ اس پر قابض رہ چکے تھے اور وہ بھی اس کے بانی نہ تھے بلکہ یہ گھر اُن سے بھی پہلے کا <mark>بنا</mark> ہوا تھا اور انہوں نے اُس کے تقدس پر ایمان لاتے ہوئے اسے دوبارہ تعمیر کیا تھا۔پس تاریخی شواہد کی رو سے بھی <mark>بیت</mark> <mark>اللہ</mark> کا <mark>بیت</mark> عتیق ہونا ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔اس موقعہ پر <mark>حضرت</mark> <mark>محی</mark> <mark>الدین</mark> صاحب ؒ <mark>ابن</mark> <mark>عربی</mark> کے ایک <mark>کشف</mark> کا ذکر کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب فتوحات ِ مکیہ کی جلد ۳میں بیان فرمایا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ <mark>کشف</mark>ی حالت میں دیکھا کہ میں <mark>بیت</mark> <mark>اللہ</mark> کا طواف کر <mark>رہا</mark> ہوں اور میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہیں جو <mark>بیت</mark> <mark>اللہ</mark> کا طواف کر رہے ہیں مگر وہ کچھ اجنبی قسم کے لوگ ہیں جن کو میں پہچانتا نہیں۔پھر انہوں نے دو شعر پڑھے جن میں سے ایک تو مجھے بھول گیا مگر دوسرا یاد <mark>رہا</mark>۔وہ شعر جو مجھے یاد <mark>رہا</mark> وہ یہ تھا کہ ؎ لَقَدْ طُفْنَا کَمَا طُفْتُمْ سِنِیْنَا بِھٰذَا الْبَیْتِ طُرًّا اَجْمَعِیْنَا یعنی ہم بھی اس مقد س گھر کا <mark>سال</mark>ہا <mark>سال</mark> <mark>اسی</mark> <mark>طرح</mark> طواف کرتے رہے ہیں جس <mark>طرح</mark> آج تم اس کا طواف کر رہے ہو۔وہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس پر بڑا تعجب ہو ا پھر اُن میں سے ایک شخص نے مجھے اپنا نام <mark>بتا</mark> یا مگر وہ نام بھی ایسا تھا جو میرے لئے بالکل غیر معروف تھا۔اس کے بعد وہ شخص مجھ سے کہنے لگا کہ میں تمہارے باپ دادوں میں سے ہوں۔میں نے پوچھا کہ آپ کو وفات پائے کتنا عرصہ گذر چکا ہے اُس نے کہا کہ چا<mark>لی</mark>س ہزار <mark>سال</mark> سے زیادہ عرصہ گذر <mark>رہا</mark> ہے۔میں نے کہا <mark>زمان</mark>ۂ آدم پرتو اتنا عرصہ نہیں گذرا۔اُس نے کہا کہ تم کس آدم کا ذکر کرتے ہو کیا اُس آدم کا