تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 160
کو چھوڑ تے وقت <mark>ان</mark>ہوں نے اللہ <mark>تعالیٰ</mark> کے حضور جو دُعا کی اُس میں بھی یہ الفاظ آتے ہیں کہ رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ( ابراہیم :۳۸)کہ اے میرے رب میں اپنی اولاد کو تیرے مقدس گھر کے قریب <mark>اس</mark> وادی میں چھوڑ چلاہوں جہاں نہ کھ<mark>ان</mark>ے کے لئے کوئی د<mark>ان</mark>ہ ہے اور نہ پینے کے لئے کوئی چشمہ۔<mark>اس</mark> سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زم<mark>ان</mark>ہ سے بھی پہ<mark>لے</mark> تعمیر ہو چکا تھا۔<mark>اس</mark>ی مضمون کی طرف اللہ <mark>تعالیٰ</mark> نے <mark>اس</mark> آیت میں بھی اشارہ فرمایا ہے کہ اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّ<mark>اس</mark>ِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَ ( آل عمر<mark>ان</mark>:۹۷)یعنی سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے روح<mark>ان</mark>ی فائدہ اور <mark>ان</mark> کی <mark>ایم<mark>ان</mark></mark>ی حفاظت کے لئے بنایا گیا تھا وہ وہی ہے جو مکّہ میں ہے۔<mark>اس</mark> میں ہر قسم کی برکتیں جمع <mark>کر</mark> دی گئی ہیں اور تمام دنیا کے لوگوں کے لئے <mark>اس</mark> میں فضل اور رحمت کے سام<mark>ان</mark> اکٹھے <mark>کر</mark>دئیے گئے ہیں۔<mark>اس</mark> آیت میں وُضِعَ لِلنَّ<mark>اس</mark>ِ کے الفاظ <mark>اس</mark> پیشگوئی کے بھی حامل تھے کہ <mark>اس</mark> گھر کے ذریعہ وہ لوگ جو متفرق ہو چکے ہوںگے پھر اکٹھے <mark>کر</mark> دئیے جائیں گے۔یعنی عالمگیر مذہب کا <mark>اس</mark> کے <mark>ساتھ</mark> تعلق ہوگا۔اور ساری دنیا کو جمع <mark>کر</mark>نے کا یہ گھر ایک ذریعہ ہوگا۔چن<mark>ان</mark>چہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ <mark>تعالیٰ</mark> نے مختلف اقوامِ عالم کو ایک <mark>ہاتھ</mark> پر جمع <mark>کر</mark>دیا اور <mark>اس</mark> طرح کعبہ تمام متفرق لوگوں کو اکٹھا <mark>کر</mark>نے کا ذریعہ بن گیا۔یسعیاہؔ نبی نے بھی <mark>اس</mark> کی پیشگوئی <mark>کر</mark>تے ہوئے فرمایا تھا۔’’رب الافواج فرماتا ہے میں نے <mark>اس</mark> کو صداقت میں برپا کیا ہے اور میں اُس کی تمام راہوں کو ہموار <mark>کر</mark>وںگا۔وہ میرا شہر بنائےگا۔اور میرے <mark>اس</mark>یروں کو <mark>بغیر</mark> قیمت اور عوض لئے آزاد <mark>کر</mark> دےگا۔خداوند یوں فرماتا ہے کہ مصر کی دولت اور کوش کی تجارت اور سباؔکے قد آور لوگ تیرے پ<mark>اس</mark> آئیںگے اور تیرے ہوںگے۔وہ تیری پیروی <mark>کر</mark>یں گے وہ بیڑیاں پہنے ہوئے اپنا ملک چھوڑ <mark>کر</mark> آئیں گے اورتیرے حضور سجد ہ <mark>کر</mark>یں گے وہ تیری منّت <mark>کر</mark>یں گے اور کہیں گے۔یقیناً خداتجھ میں ہے اور کوئی دوسرا نہیں اور اُس کے سوا کوئی خدا نہیں۔‘‘ (یسعیاہ باب ۴۵ آیت ۱۳،۱۴) <mark>اس</mark> پیشگوئی میں پہلی بات تو یہ بتائی گئی تھی کہ ایک خدا کا شہر بنایا جائےگا چن<mark>ان</mark>چہ ساری دنیا میں صرف بلد اللہ الحرام ہی ایک ایسا شہر ہے جو خدا کا شہر کہلاتا ہے۔پھر بتا یا گیا تھا کہ <mark>اس</mark> کو بن<mark>ان</mark>ےوالا یعنی <mark>اس</mark> کی عظمت کو قائم <mark>کر</mark>نے والا میرے <mark>اس</mark>یروں کو بلا اُجرت لئے چھڑائےگا۔چن<mark>ان</mark>چہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ کو فتح <mark>کر</mark>کے بلا کسی تاو<mark>ان</mark> لینے کے لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ کی آواز بلند <mark>کر</mark>کے قیدیوں کو چھوڑ دیا۔<mark>اس</mark>ی طرح آپ روح<mark>ان</mark>ی قیدیوں سے بھی یہی کہتے رہے کہ لَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا (ال<mark>ان</mark>عام :۹۱)یعنی میں تم سے کوئی اجرت نہیں م<mark>ان</mark>گتا۔پھر محمدرسول اللہ