تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 160

کو چھوڑ تے وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور جو دُعا کی اُس میں بھی یہ الفاظ آتے ہیں کہ رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ( ابراہیم :۳۸)کہ اے میرے رب میں اپنی اولاد کو تیرے مقدس گھر کے قریب اس وادی میں چھوڑ چلاہوں جہاں نہ کھانے کے لئے کوئی دانہ ہے اور نہ پینے کے لئے کوئی چشمہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے بھی پہلے تعمیر ہو چکا تھا۔اسی مضمون کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی اشارہ فرمایا ہے کہ اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَ ( آل عمران:۹۷)یعنی سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے روحانی فائدہ اور ان کی ایمانی حفاظت کے لئے بنایا گیا تھا وہ وہی ہے جو مکّہ میں ہے۔اس میں ہر قسم کی برکتیں جمع کر دی گئی ہیں اور تمام دنیا کے لوگوں کے لئے اس میں فضل اور رحمت کے سامان اکٹھے کردئیے گئے ہیں۔اس آیت میں وُضِعَ لِلنَّاسِ کے الفاظ اس پیشگوئی کے بھی حامل تھے کہ اس گھر کے ذریعہ وہ لوگ جو متفرق ہو چکے ہوںگے پھر اکٹھے کر دئیے جائیں گے۔یعنی عالمگیر مذہب کا اس کے ساتھ تعلق ہوگا۔اور ساری دنیا کو جمع کرنے کا یہ گھر ایک ذریعہ ہوگا۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مختلف اقوامِ عالم کو ایک ہاتھ پر جمع کردیا اور اس طرح کعبہ تمام متفرق لوگوں کو اکٹھا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔یسعیاہؔ نبی نے بھی اس کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا تھا۔’’رب الافواج فرماتا ہے میں نے اس کو صداقت میں برپا کیا ہے اور میں اُس کی تمام راہوں کو ہموار کروںگا۔وہ میرا شہر بنائےگا۔اور میرے اسیروں کو بغیر قیمت اور عوض لئے آزاد کر دےگا۔خداوند یوں فرماتا ہے کہ مصر کی دولت اور کوش کی تجارت اور سباؔکے قد آور لوگ تیرے پاس آئیںگے اور تیرے ہوںگے۔وہ تیری پیروی کریں گے وہ بیڑیاں پہنے ہوئے اپنا ملک چھوڑ کر آئیں گے اورتیرے حضور سجد ہ کریں گے وہ تیری منّت کریں گے اور کہیں گے۔یقیناً خداتجھ میں ہے اور کوئی دوسرا نہیں اور اُس کے سوا کوئی خدا نہیں۔‘‘ (یسعیاہ باب ۴۵ آیت ۱۳،۱۴) اس پیشگوئی میں پہلی بات تو یہ بتائی گئی تھی کہ ایک خدا کا شہر بنایا جائےگا چنانچہ ساری دنیا میں صرف بلد اللہ الحرام ہی ایک ایسا شہر ہے جو خدا کا شہر کہلاتا ہے۔پھر بتا یا گیا تھا کہ اس کو بنانےوالا یعنی اس کی عظمت کو قائم کرنے والا میرے اسیروں کو بلا اُجرت لئے چھڑائےگا۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ کو فتح کرکے بلا کسی تاوان لینے کے لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ کی آواز بلند کرکے قیدیوں کو چھوڑ دیا۔اسی طرح آپ روحانی قیدیوں سے بھی یہی کہتے رہے کہ لَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا (الانعام :۹۱)یعنی میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔پھر محمدرسول اللہ