تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 140
اپنے آپ کو آزاد نہیں کر سکتا۔مثلاً دیکھو خدا تعالیٰ نے زبان بنائی ہے۔اب ایک طرف تو انسان کو اتنی آزادی حاصل ہے کہ وہ اس زبان سے اگر چاہے تو خدا تعالیٰ کو بھی گالیاں دے لے لیکن دوسری طرف اگر اس زبان کے سامنے دنیا کے تمام بادشاہ ، وزراء ، علماء اور فقہاء ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جائیں کہ میٹھے کو کھٹا چکھ یا کھٹے کو کڑوا چکھ تو وہ ایسا کبھی نہیں کر ے گی۔وہ میٹھے کو میٹھا ہی چکھے گی اور کھٹے کو کھٹا ہی چکھے گی۔گویا ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے انسان کواتنی آزادی دی ہے کہ اگر وہ چاہے تو خدا تعالیٰ کو بھی بُرا بھلا کہہ لے۔اور دوسری طرف اس میں اتنی طاقت بھی نہیں رکھی کہ وہ میٹھے کو کڑوا چکھے یا کڑوے کو میٹھا چکھے۔اور اگر کسی جگہ اس میں تبدیلی بھی نظر آتی ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت ہی ہوتی ہے۔مثلاً اگر کسی کا جِگر خرا ب ہے تو اُسے میٹھی چیز کڑوی لگتی ہے یا بعض خرابیو ں کی وجہ سے نمک تیز محسوس ہونے لگتا ہے یا میٹھی چیز میں مٹھاس کم معلوم ہو تی ہے۔یا پھیکی چیز کڑوی معلوم ہو تی ہے مگر یہ تبدیلی بھی خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے ماتحت ہی ہوتی ہے ورنہ جن چیزوں پر انسان کو اختیار حاصل نہیں ان میں اُس کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔مثلاً تمہاری انگلی ہے۔اگر تم اُسے کسی سوئی کے ناکہ میں ڈالنے کی کوشش کرو تو اس کو ناکہ میں نہیں ڈال سکتے خواہ کوئی جرنیل ہو ،نواب ہو ، بادشاہ ہو ، دُنیا کی بڑی سے بڑی حکومت اس کے پاس ہو۔وہ اپنی انگلی سوئی کے ناکہ میں نہیں ڈال سکتا۔یا مثلاً آواز ہے اگر تمہیں کسی عزیز کی آواز آرہی ہو۔توتم اگر چاہو بھی تواُسے کسی دوسرے شخص کی آواز نہیں بنا سکتے۔کسی کے ہاں بدصورت لڑکا پیدا ہو تو اگر وہ چاہے کہ وہ خوبصورت ہو جائے تو وہ اُسے خوبصورت نہیں بنا سکتا۔کسی کے لڑکے کا قد چھوٹا ہو تو اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ وہ اس کے قد کو لمبا کر دے یا مثلاًخدا تعالیٰ نے آنکھ دیکھنے کے لئے بنائی ہے تو آنکھ ہمیشہ سُرخ کو سُرخ اور زرد کو زرد دیکھے گی یہ کبھی نہیں ہوگا کہ وہ سُرخ کو زرد دیکھنا چاہے تو وہ زرد دیکھنے لگ جائے اور زرد کو سُرخ دیکھنا چاہے تو سُرخ دیکھنے لگ جائے۔گویا ایک قانون ہے جس کی اطاعت سے کوئی شخص باہر نہیں نکل سکتا۔اسی طرح سورج کیا اور چاند کیا اور ستارے کیا اور پہاڑ کیا اور درخت کیا اور چوپائے کیا سب ایک خاص نظام کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔اور ہر ایک اپنی اپنی ڈیوٹی ادا کر رہا ہے۔پھر تم اِن چیزوں کو خدا کس طرح قرار دیتے ہو۔یہ چیزیںتو خود تمہارے سامنے ایک خد مت گار کے طور پر کھڑی ہیں مگر تم ایسے احمق ہو کہ انہی کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جاتے ہو اور اس طرح اپنے آپ کو ذلیل کرتے ہو۔اس نظامِ کائنات کی طرف اِس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کائنات پر غور کرنے سے صاف ثابت ہو تا ہے کہ تمام کائنات قانون قدرت کے تابع ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار ہے۔اور اکثر انسان بھی قانونِ قدرت کے تابع ہیں۔اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ بعض انسان قانونِ قدرت سے آزاد ہیں بلکہ یہ کہا گیا