تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 139
نفیل )) پھر فرماتا ہےکہ ان سب مدعیانِ ایمان کا اللہ تعالیٰ آخری فیصلہ کے دن کامل فیصلہ کردے گا یعنی جو اُن میں سے اپنے دعویٰ میں سچّے ہونگے وہ غالب آجائیں گے اور جو اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہونگے وہ اپنے اپنے جھوٹ کے مطابق مغلوب ہو جائیںگے چنانچہ فیصلہ کے دن مسلمان غالب آگئے اور مشرک جن میں سے بہت کم لوگ موحد تھے بالکل تباہ ہو گئے اور یہود اور صابی اور نصاریٰ اور مجوسی اپنی اپنی کمزوری کی حد تک سزا پاگئے۔جس سے ثابت ہو گیا کہ اسلام سچا مذہب ہے۔اس آیت سے بعض لوگ یہ غلط نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی اور صابی سارے کے سارے دینوں کو اسلام سچا قرار دیتا ہے حالانکہ اس کے اصل معنوں کی رو سے اس جگہ ایک معیار ِ صداقت بتا یا گیا ہے کہ جو اس معیارِ صداقت پر پورا اُترے گا۔وہ سچا ہوگا یہ نہیں کہا گیا کہ یہ قومیں سچی ہیں۔اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي ( اے اسلام کے مخالف! ) کیا تُو نہیں دیکھتا کہ جو کوئی بھی آسمان میں ہے وہ اللہ (تعالیٰ) کی فرمانبرداری کرتا ہے اور الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ اسی طرح جو کوئی زمین میں ہے اور سورج بھی اور چاند بھی اور ستارے بھی اور پہاڑ بھی اور درخت بھی اور الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِيْرٌ حَقَّ چارپائے بھی اور لوگوں میں سے بھی بہت سے۔لیکن لوگوں میں سے ایک گروہ کثیر ایسا ہے جس کے عَلَيْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ متعلق عذاب کا فیصلہ ہو چکا ہے اور جس کو خدا ذلیل کرے۔اُسے کوئی عزّت دینے والا نہیں۔اللہ( تعالیٰ) اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُؕؑ۰۰۱۹ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔آسمان اور زمین میں ایک ایسا قانون جاری ہے کہ جس کی فرمانبرداری سے کوئی شخص