تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 134
عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ کرے گا جن ( کے سایہ ) میں نہریں بہتی ہیں۔اللہ (تعالیٰ) جو چاہے کرتا ہے۔جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ۰۰۱۵مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ ( تعالیٰ )اس کی ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ) مدد کبھی نہیں کرےگا نہ دُنیا میں نہ آخرت میں۔تو اُسے چاہیے کہ وہ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ ایک رسّی آسمان تک لے جائے (اور اس پر چڑھ جائے ) پھر اُسے کاٹ ڈالے۔پھر وہ دیکھے کہ کیا اُس کی تدبیر اس لْيَقْطَعْ فَلْيَنْظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهٗ مَا يَغِيْظُ۰۰۱۶وَ كَذٰلِكَ بات کو دُور کر دیتی ہے جو اُسے غصّہ دلا رہی ہے ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آسمانی امدادیں اور فتوحات ) اور ہم اَنْزَلْنٰهُ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يُّرِيْدُ۰۰۱۷ نے اسی طرح اس ( یعنی قرآن ) کو کھلے کھلے نشانات بنا کر نازل کیا ہے۔اور اللہ (تعالیٰ) یقیناً جس کے متعلق ارادہ کرتا ہے اُسے صحیح راستہ دکھا دیتا ہے۔حلّ لُغَات۔مُضْغَۃٌ۔مُضْغَۃٌکے معنے ہیں قِطْعَۃُ لَحْمٍ گوشت کا ٹکڑا۔(اقرب) مُخَلَّقَۃٌ۔مُخَلَّقَۃٌ کے معنے ہیں تَا مَّۃُ الْخَلْقِ۔پوری پیدا ئش والا۔(اقرب) ھَامِدَۃٌ۔ھَمَدَتِ الْاَرْضُ کا فقرہ جب بولتے ہیں تو مراد ہوتی ہے اِذا لَمْ یَکُنْ بِھَاحَیَاۃٌ وَلَا عُوْدٌ وَلَا نَبْتٌ وَلَا مَطَرٌ۔جب زمین میں زندگی کے آثار نہ ہوں یعنی نباتا ت وغیرہ نہ ہو۔الاساس میں ہے۔اَرْضٌ ھَامِدَۃٌ مُقْشَعَرَّۃٌ قَدْ یَبِسَ نَبَاتُھَاوَتَحَطَّمَ کہ جب اَرْضٌ ھَامِدَۃٌ کا فقرہ بولیں تو اس سے مُراد یہ ہوتی ہے کہ وہ زمین جس کی نباتات خشک ہو چکی ہو۔اور خشک ہو کر ٹوٹ پھوٹ چکی ہو۔(اقرب) اِھْتَزَّتْ۔اِھْتَزََّّ سے مؤنث کا صیغہ ہے۔اور اِھْتَزَّتِ الْاَرْضُ کے معنے ہیں اَنْبَتَتْ۔زمین نے اُگایا۔(اقرب) بَھِیْجٌ۔بَھِیْجٌ بَھِجَ سے صفت مشّبہ کا صیغہ ہے۔اور بَھِجَ بِہٖ کے معنے ہیں فَرِحَ بِہٖ وَسُرَّ۔اس کو دیکھ کر