تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 133
لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّ نُذِيْقُهٗ ہیں ( یعنی اظہار تکّبر کرتے ہیں ) تا کہ اللہ کے راستہ سے لوگوں کو گمراہ کریں۔ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں بھی رسوائی يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِيْقِ۰۰۱۰ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدٰكَ ہوگی اور قیامت کے دن بھی ہم اُن کو جلنے والا عذاب پہنچائیں گے۔تمہارے ہاتھوں نے جو کچھ پہلے کیا تھا اُس کے وَ اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِؒ۰۰۱۱وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ نتیجہ میں یہ بات ظاہر ہوگی اور ( اس سے معلوم ہوگا کہ ) اللہ (تعالیٰ) اپنے بندوں پر ہر گز کسی قسم کا ظلم نہیں کرتا۔اور يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُ ا۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ لوگوں میں سے( بعض) ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ( تعالیٰ) کی عبادت صرف بد دلی سے کرتے ہیں۔پس اگر اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ ا۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْيَا وَ اُن کو کوئی فائدہ پہنچ جائے تو وہ اس (عبادت ) پر خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اپنے منہ کی الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ۰۰۱۲يَدْعُوْا مِنْ سیدھ لوٹ جاتے ہیں۔وہ دنیا میں بھی گھاٹے میں پڑ جاتے ہیں اور آخرت میں بھی۔اور یہی کھلا کھلا گھاٹا ہے۔وہ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَ مَا لَا يَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ اللہ کے سوا اُس چیز کو بُلاتے ہیں جو نہ اُن کو نقصان پہنچاتی ہے اور نہ نفع دیتی ہے۔اور یہی انتہائی درجہ کی گمراہی ہے الْبَعِيْدُۚ۰۰۱۳يَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ وہ اس ( شخص ) کو بُلاتے ہیں جس کا ضرر اُس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔ایسا آقا بھی بہت برا ہے اور ایسے الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِيْرُ۰۰۱۴اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ ساتھی بھی بہت بُرے ہیں۔اللہ (تعالیٰ) یقیناً مومنوں کو جو مناسب حال عمل بھی کرتے ہیں ایسے باغات میں داخل