تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 128
حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ یوم القیامۃ سے مراد فتح مکّہ وغیرہ کی قسم کے واقعات ہیں جن میں مسلمانوں کو ایسا بین غلبہ میّسر آیا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے پُوچھا کہ بتائو اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔تو انہوں نے کہا آپ ہم سے وہی سلوک کریں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔گویا انہوں نے اقرار کر لیا کہ جس طرح یوسف ایک دن اپنے بھائیوں پر غالب آگیا تھا اسی طرح تجھے بھی خدا نے ہم پر غلبہ عطا کر دیا ہے۔پس ہم تجھ سے اس سلوک کی امید رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرما دیا کہ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللہُ لَکُمْ وَ ھُو اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ اذْھَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَاء ( السیرۃ الحلبیۃ ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکة شرفھا اللہ تعالیٰ) یعنی آج تم پر کوئی گرفت نہیں اللہ تعالیٰ تمہارے قصورو ں کو معاف فرمائے کہ وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔جائو تم سب کے سب آزاد ہو۔قرآن کریم کی یہ آیت بتا تی ہے کہ قیامۃ کے لفظ کا استعمال اسلامی فتوحات کے لئے بھی کیا گیا ہے۔اسی طرحيٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ۔يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ میں فتح مکّہ کی پیشگوئی کی گئی ہے اور بتا یا گیا ہے کہ کفّا ر پر ایک قیامت نما زلزلہ آنے والا ہے۔جس کو دیکھ کر وہ ایسے سراسیمہ اور حیران ہوجائیں گے کہ انہیں اپنے بچائو کی کوئی صورت نظر نہیں آئے گی اور وہ بد مستوں کی طرح لڑھک رہے ہوںگے۔چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد جب معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قریش مکّہ نے بنوبکر کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے معاہد قبیلہ بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا اور اُن کے کئی آدمی مار ڈالے تو بنو خزاعہ نے فوراً چالیس آدمی تیز اونٹو ں پر بٹھا کر مدینہ میں اس بد عہدی کی اطلاع دینے کے لئے روانہ کر دیئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ باہمی معاہدہ کے مطابق اب آپ ہمارا بدلہ لیں اور مکّہ پر چڑھائی کر یں۔یہ وفد ابھی مدینہ نہیں پہنچا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کشفی رنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکّہ والوں کی اس بد عہدی کی اطلاع دے دی۔چنانچہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے ہاں باری تھی آپ رات کے وقت تہجد کے لئے اُٹھے۔جب آپ وضو کر رہے تھے تو میں نے سُنا کہ آپ نے بلند آواز سے فرمایا۔لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ! اور پھر آپ نے تین دفعہ فرمایا نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ ! حضرت میمونہ ؓ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے یہ کیا فقرات فرمائے ہیں۔یہ تو ایسے الفاظ ہیں جیسے آپ کسی سے گفتگو فرما رہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ابھی دیکھا ہے کہ خزاعہ کا ایک وفد میرے پاس آیا ہے اور وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ قریش نے بنو بکر کے ساتھ مل کر اُن پر حملہ کر دیا ہے اور اُن کے کئی آدمی مار ڈالے ہیں۔اب آپ معاہدہ کے مطابق ہماری مدد کریں اور مکّہ والوں پر چڑھائی کر یں۔اور میں نے انہیں کہا ہے کہ میں تمہاری مدد کے لئے بالکل تیار ہوں۔اب ادھر تو خزاعہ والوں نے اپنا وفد مدینہ بھجوا دیا اور اُدھر مکّہ والوں کو فکر ہوئی کہ اگر ہماری معاہدہ شکنی کی خبر مدینہ پہنچی تو مسلمان ہمار ا مقابلہ کر یں گے۔چنانچہ انہوں نے ابو سفیان کو مدینہ بھجوایا اور اُسے کہاکہ جس طرح بھی ہو سکے تم اس معاہدہ میں ردّ و بدل کروا دو تا کہ ہم پر معاہدہ شکنی کا کوئی الزام نہ آئے۔وہ مدینہ پہنچا اور اُس نے یہ زور دینا شروع کیا کہ چونکہ صلح حدیبیہ کے وقت میں موجود نہیں تھا اور میں مکّہ کا بڑا رئیس ہوں اس لئے میرے دستخطوں کے بغیر وہ معاہدہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اب میں چاہتا ہوں کہ نئے سرے سے معاہدہ کیا جائے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی حاضر ہو ا اور حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے بھی ملا مگر کسی نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔آخر جب ہر طرف سے مایوس ہو گیا تو خود ہی مسجد میں کھڑے ہو کر اُس نے اعلان کر دیا کہ چونکہ میں اس معاہدہ میں شامل نہیں تھا اور میں مکہ کا رئیس ہوں اس لئے وہ معاہدہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اب میں نئے سرے سے معاہدہ کرتا ہوں۔مسلمان اُس کی اس بے وقوفی پر ہنس پڑے اور وہ سخت ذلیل اور شرمندہ ہوا اور ناکام مکّہ کو واپس چلا گیا۔اسی دوران میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ پر حملہ کرنے کے لئے دس ہزار کا لشکر تیار کر لیا اور آپ منزلوں پر منزلیں طے کرتے ہوئے رات کے وقت مکّہ کے قریب جا پہنچے اور آپ نے حکم دے دیا کہ ہر خیمہ کے آگے آگ روشن کی جائے۔ایک جنگل میں رات کے وقت دس ہزار آدمیوں کے خیموں کے سامنے بھڑکتی ہوئی آگ ایک ہیبت ناک منظر پیش کر رہی تھی۔مگر چونکہ آپ نے یہ تیاری نہایت مخفی رکھی تھی اس لئے مکّہ والوں کو اس بات کا کوئی علم نہ تھا کہ اسلامی لشکر اُن کے سامنے ڈیرہ ڈالے پڑا ہے لیکن اندر ہی اندر وہ سخت خوف زدہ تھے۔اور ابو سفیان کی ناکامی انہیں اور زیادہ پریشان کررہی تھی۔آخر انہوں نے دوبارہ ابو سفیان سے کہا کہ تم پھر مدینہ جائو اور مسلمانوں کے ارادوں کی خبر لو۔ابو سفیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ جب مکّہ سے باہر نکلا تو اُس نے سارے جنگل کو آگ سے روشن پا یا۔وہ حیران ہوا کہ یہ کون لوگ ہیں۔چنانچہ ابو سفیان نے اپنے ساتھیوں سے پُو چھا کہ یہ کیا ہے۔کیا آسمان سے کو ئی لشکر اُتر آیا ہے۔انہوں نے مختلف قبائل کے نا م لئے مگر ابو سفیان ہر نام پر کہتا کہ اس قبیلہ کے لوگ تو بہت تھوڑے ہیں اور اِن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ اندھیرے میں آواز آئی۔ابو حنظلہ ! یہ ابو سفیان کی کُنیت تھی۔ابو سفیان نے آواز پہچان لی اور کہا۔عبا س !تم کہاں ؟ اُس نے کہا سامنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر پڑا ہے۔اگر تم اپنی جان کی خیر چاہتے ہو تو فوراً میرے پیچھے سواری پر بیٹھ جائو۔ورنہ عمر ؓ میرے پیچھے آرہا ہے اور وہ تیری خبرلے گا۔چنانچہ حضرت عباس ؓ نے جو ابو سفیا ن کے گہرے دوست تھے اس کا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔اور سواری کو دوڑاتے ہو ئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاپہنچے۔وہاں جاتے ہی ابو سفیان کو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں دھکا دیکر گر ا دیا۔اور عرض کیا یا رسول اللہ ابو سفیان بیعت کرنے کے لئے حاضر ہو ا ہے۔ابو سفیان اس نظارہ کو دیکھ کر اس قدر مبہوت ہو چکا تھا کہ اس کے منہ سے بات تک نہ نکلی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دیکھا تو فرمایا عبا س! ابو سفیان کو اپنے ساتھ لے جائو اور رات کو اپنے پاس رکھو۔صبح اسے میرے پاس لانا۔جب صبح اُسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اُس وقت فجر کی نماز کا وقت تھا۔جب اُس نے دیکھا کہ ہزاروں مسلمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں کبھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔کبھی رکوع میں چلے جاتے ہیں۔کبھی سجدہ میں گِر جاتے ہیں اور کبھی تشہد میں بیٹھ جاتے ہیں تو اُس نے اپنی بیوقوفی سے سمجھا کہ شاید یہ میرے لئے کوئی نئی قسم کا عذاب تجویز ہو رہا ہے۔اور میرے قتل کی تدبیریں ہو رہی ہیں۔چنانچہ اُس نے حضرت عبا س ؓ سے کہا کہ عباس ! یہ لوگ صبح صبح کیا کر رہے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو دس ہزار آدمی اُنکی اقتداء میں کھڑے ہو گئے۔وہ رکوع میں گئے تو دس ہزار آدمی رکوع میں چلے گئے۔وہ سجدہ میں گرے تو دس ہزار آدمی سجدہ میں گر گئے۔وہ تشہد میں بیٹھے تو دس ہزار آدمی تشہد میں بیٹھ گئے۔حضرت عبا س ؓ نے کہا یہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں۔وہ حیران ہو کر کہنے لگا میں نے قیصر کا دربار بھی دیکھا ہے اور کسریٰ کا بھی۔مگر میں نے تو ان بڑے بڑے بادشاہوں کی بھی اس طرح اطاعت نہیں دیکھی جس طرح یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر رہے ہیں۔حضرت عباس ؓ نے کہا۔ابو سفیان تم تو یہ کہتے ہو ان لوگوں کی تو یہ کیفیت ہے کہ اگر محمدؐ رسول اللہ انہیں کہیں کہ کھانا پینا چھوڑ دو تو یہ کھانا پینا بھی چھوڑ دیں۔نماز کے بعد حضرت عبا س ؓ ابو سفیان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔آپ نے ابو سفیان کو دیکھا اور فرمایا کہ ابو سفیا ن کیا ابھی تم پر وہ حقیقت روشن نہیں ہوئی کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ابو سفیان نے کہا۔میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔میں یہ بات اچھی طرح سمجھ چکا ہوں کہ اگر خدا کے سوا کوئی او ر بھی معبود ہوتا تو ہماری کچھ تو مدد کرتا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابو سفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم سمجھ لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ابو سفیا ن نے ترد د کا اظہار کیا۔مگرحضرت عباسؓ کے زور دینے کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ اُس کے دونوں ساتھیوں نے بھی بیعت کر لی تھی اُس نے بھی اسلام قبول کر لیا۔پھر اُس نے کہا یا رسول اللہ ! اگر مکّہ کے لوگ تلوار نہ اُٹھائیں تو کیا وہ امن میں ہوںگے ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں ہر شخص جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلےگا اور مقابلہ نہیں کرےگا اُسے امن دیا جائےگا۔حضرت عباس ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ابو سفیان کو اپنے اعزاز کا زیاد ہ خیال رہتا ہے اس کی عزت کا بھی کوئی سامان کیا جائے۔آپ نے فرمایا اچھا جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائےگا اُسے بھی امن دیا جائےگا۔اُس نے کہا یا رسول اللہ ! مکّہ کی آباد ی کو مدنظر رکھتے ہوئے ابوسفیان کا گھر بہت چھوٹا ہے۔آپ نے فرمایا جو شخص حکیم بن حزام کے گھر میں داخل ہو جائے گا اُسے بھی امن دیا جائےگا۔اورجو شخص اپنے ہتھیار پھینک دیگا اُسے بھی امن دیا جائےگا۔اور جو کوئی خانہ کعبہ میں چلا جائےگا اُس کو بھی امن دیا جائےگا۔اُس نے کہایا رسول اللہ ! یہ جگہیں بھی مکّہ کی آبادی کے لحاظ سے کافی نہیں۔آپ نے فرمایا اچھا میرے پا س کچھ کپڑا لائو۔جب کپڑا لایا گیا تو آپ نے اُس کا ایک جھنڈا بنایا اور پھر وہ جھنڈا آپ نے ایک صحابی ابو رویحہؓ کو دیا جو حضر ت بلا ل ؓ کے بھائی بنے ہوئے تھے۔اور فرما یا کہ یہ بلا ل ؓ کا جھنڈا ہے جو کوئی اس کے نیچے آکر کھڑا ہو جائےگا اُس کو بھی معاف کر دیا جائےگا۔(السیرة الحلبیة ذکر مغازیہ فتح مکة ) یہ تاریخی واقعہ بتاتا ہے کہ جب ابو سفیان نے مکّہ میں جا کر اعلان کیا ہوگا۔تو کس طرح لوگ پاگلوں کی طرح اپنے اپنے گھروں کی طرف۔خانہ کعبہ کی طرف۔بلال ؓ کے جھنڈے کی طرف اور ابو سفیان اور حکیم بن حزام کے گھر کی طرف دوڑ پڑے ہوںگے اور کس طرح اُن کے دل اُس وقت لرز رہے اور ٹانگیں لڑکھڑا رہی ہوںگی۔اور اُن کے حواس باختہ ہو رہے ہوں گے ؟ اس موقعہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بلال ؓ کا جھنڈا بنایا یہ ایک لطیف طریقہ مکّہ والوں کو ذلیل کرنے اور بلال ؓ کا دل خوش کرنے کا تھا۔مکّہ والے سالہا سال تک بلال ؓ کو اس کے اسلام لانے کی وجہ سے مارا کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خیال آیا کہ بلا ل ؓ دل میں کہے گاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو تو معاف کر دیا مگر میرے سینہ اور چھاتی پر لگے ہوئے زخموں کا کوئی بدلہ نہ لیا۔پس آپ نے اُن کا جھنڈا بنا کر اُن کے ایک منہ بولے بھائی کے ہاتھ میں دے دیا اور فرما یا کہ جو کوئی بلال ؓ کے جھنڈے کے نیچے آکر کھڑ ا ہو گا اُسے بھی معاف کیا جائےگا۔( السیرۃ الحلبیۃ ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکۃ شرفھا اللہ تعالیٰ ) اور اس طرح ایک ہی وقت میں آپ نے اپنی رحم دلی کا ثبوت بھی دے دیا اور بلال ؓ کے زخموں پر پھایا بھی لگا دیا۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ۔