تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 9
اِحْضَارُہٗ فِی الذِّھْنِ بِحَیْثُ لَا یَغِیْبُ عَنْہُ کہ ذہن میںکسی چیز کو اس طرح بار بار لایا جائے کہ وہ ذہن سے اتر نہ جائے ذِکْرٌ کے ایک معنے اَلصِّیْتُ کے بھی ہیںیعنی شہرت۔نیز اس کے معنے ہیں الشَّرَفُ بزرگی۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ اِنَّہُ لَذِکْرٌلَّکَ وَلِقَوْمِکَ کہ یہ کتاب تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے شرف اور عزت کاموجب ہے۔اسی طرح ذکر کے معنے ہیں اَلْکِتَابُ فِیْہِ تَفْصِیْلُ الدِّیْنِ وَ وَضْعُ الْمِلَلِ کہ وہ کتاب جس میںدین اور مذہب کی تفصیلات کا ذکر ہو اگر ذِکْرٌ مِّنَ الْقَوْلِ کا فقرہ بولیں تو معنے ہوںگے اَلصُّلْبُ الْمَتِیْنُ مضبوط اور پکی بات۔(اقرب ) محدثٌ۔مُحْدَثٌ کے معنے ہیں نَقِیْضُ الْقَدِیْمِ یعنی نیا۔(اقرب) یَلْعَبُوْنَ۔یَلْعَبُوْنَ لَعِبَ سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے اور لَعِبَ فِی الْاَمْرِوَالدِّیْنِ کے معنے ہیں اِسْتَخَفَّ بِہٖ اس نے دین کی باتوں کو معمولی سمجھا اور ان کو حقیر قرار دیا۔(اقرب) لَاھِیَۃً۔لَاھِیَۃً لَھِیَ سے ہے اور لَھِیَ عَنْہُ کے معنے ہوتے ہیں سَلَا وَ غَفَلَ وَ تَرَکَ ذِکْرَہُ وَ اَعْرَضَ عَنْہُ کسی چیز کو بھلا دیا اور اس سے غافل ہوگیا۔اور اس کی یاد کو بھلا دیا اور اس سے ہٹ گیا۔(اقرب) النجوٰی۔اَلنَّجْوٰی کے معنے ہیںپوشیدہ بات کرنانیز اس کے معنے ہیںاَلسِّرُّبھید (اقرب) اَلسِّحْر۔اَلسِّحْرُکے معنے ہیںکُلُّ مَالَطُفَ مَأْ خَذُہٗ وَ دَقَّ ہر وہ بات جس کا ماخذ لطیف اور دقیق ہو۔اسی طرح اس کے معنے ہیں الْفَسَادُ فساد اِخْرَاجُ الْبَاطِلِ فِی صُوْرَۃِ الْحَقِّ غلط بات کا ایسے رنگ میں پیش کرنا کہ وہ صحیح اور درست نظر آئے وَاِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا قِیْلَ مَعْنَاہُ اَنَّہُ یَمْدَحُ الْاِنْسَانَ فَیَصْدُقُ فِیْہِ حَتّٰی یَصْرِفَ قُلُوْبَ السَّامِعِیْنَ اِلَیْہِ وَ یَذُمُّہٗ فَیَصْدُق فِیْہِ حَتّٰی یَصْرِفَ قُلُوْبَھُمْ اَیْضًا عَنْہُ یعنی جب کسی کلام کے متعلق یہ کہیںکہ وہ سحر ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ کلام کرنے والا جب کسی کی تعریف کرتاہے تو ایسے رنگ میںکرتاہے کہ لوگوں کے دلوں کو موہ لیتا ہے اور جب کسی کی مذمت کرتاہے تو ایسا طریق اختیار کرتاہے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہوجاتے ہیںاور وہ اس کو سچاسمجھنے لگتے ہیں (اقرب) تفسیر۔ان آیات میں بتایاگیاہے کہ مکہ والوں کا قرآن کریم کی باتوں کو حقیر سمجھنا اور اسلام سے ہنسی کھیل کرناکو ئی نئی بات نہیںدنیاکے تمام کفار ہمیشہ سے ہر نئے الہام کی مخالفت کرتے آئے ہیں اور اسے سن کر ان کے دل خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ نہیںہوئے بلکہ ہنسی مذاق کی طرف متوجہ رہے ہیں اور خداکے پیغام کو مٹانے کے لئے کافروں کے سردار ہمیشہ منصوبے کرتے رہے ہیں۔انہیں یہ کبھی خیال نہیںآیا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور ہم انسان