تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 121

شَدِيْدٌ۰۰۳ بڑا سخت ہے۔حلّ لُغَات۔اِتَّقُوْا۔اِتَّقُوْا وَقٰی سے باب افتعال اِتَّقٰی بنتا ہے۔اور اِتَّقُوْا اسی باب سے امر کا جمع مذکر کا صیغہ ہے۔وَقَاہُ کے معنے ہیں سَتَرَہٗ عَنِ الْاَذَی وَ صَانَہُ وَحَفِظَہٗ اُس کو تکلیف سے بچایا اور محفوظ رکھا ( اقرب )۔مفردات میں ہے الوِقَایَۃُ: حِفْظُ الشَّیْءِ مِـمَّا یُؤْ ذِیْہُ وَیَضُرُّہٗ یعنی وِقَایَۃ ( جو وَقٰی کا مصدر ہے) کے معنے ہیں کسی چیز کو اس امر سے بچانا جو اس کو نقصان پہنچائے یا تکلیف دے۔اور اَلتَّقْوٰی کے معنے ہیں جَعْلُ النَّفْسِ فِیْ وِقَایۃٍ مِمَّا یُخَافُ۔خطرے والی چیزوں سے نفس کو حفاظت میں رکھنا ( مفردات ) اسی طرح اَلْوِ قَایَۃُ کے معنے ہیں وہ چیز جس کے ذریعہ سے دوسری چیز بچائی جاتی ہے ( اقرب) جیسے درخت کی چھال یا کتاب کی جلد۔پس اِتَّقُوْا کے معنے ہوںگے اللہ تعالیٰ کو آفات سے بچنے کے لئے ڈھال بنائو۔اَلسَّاعَۃُ اَلسَّاعَۃُ جُزْءٌ مِّنْ اَجْزَائِ الزَّمَانِ۔زمانہ کے حصوں میں سے ایک حصّہ جسے ہم گھڑی یا کچھ وقت سے تعبیر کرتے ہیں۔وَ یُعَبَّرُ بِہٖ عَنِ الْقِیَامَۃ اور ساعۃ کے لفظ سے کبھی قیامت بھی مراد لی جاتی ہے۔وَقِیْلَ السَّاعَاتُ الَّتِیْ ھِیَ الْقِیَامَۃُ ثَلَاثَۃٌ اَلسَّاعَۃُ الْکُبْریٰ وَ ھِیَ بَعْثُ النَّاسِ لِلْمُحَاسَبَۃِ علماء نے بیان کیا ہے کہ وہ ساعات جن کو قیامت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے تین ہیں (۱)اَلسَّاعَۃُ الْکُبْرٰی جبکہ لوگوں کو محاسبہ کے لئے قبروں سے اٹھایا جائیگا۔(۲) اَلسَّاعَۃُ الْوُسْطیٰ وَھِیَ مَوْتُ اَھْلِ الْقَرْنِ ساعت وسطیٰ اور یہ ایک زمانہ کے لوگوں کا مرنا اور ختم ہونا ہے۔(۳) وَالسَّاعَۃُ الصُّغْرٰی وَ ھِیَ مَوْتُ الْاِنْسَانِ فَسَاعَۃُ کُلِّ اِنْسَانٍ مَوْتُہٗ۔اور ساعت صغریٰ انسانی موت کا نام ہے۔پس ہر انسان کی ساعۃ اُس کی موت ہے (مفردات) پس اَلسَّاعَۃُ کے معنے ہوںگے۔ہلاکت کی گھڑی یا وہ خاص گھڑی جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔تَذْھَلُ تَذْھَلُ ذَھَلَ سے مضارع واحد مؤنث کا صیغہ ہے اور ذَھَلَہُ کے معنے ہیں نَسِیَہٗ لِشُغْلٍ کسی کا م کی وجہ سے جس میں وہ مشغول تھا اسے بھُول گیا ( اقرب ) پس تَذْھَلُ کے معنے ہونگے وہ بھُول جائےگی۔سُکٰری سُکٰرٰی سَکْرَانُ کی جمع ہے جو سَکِرَ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔اور سَکِرَ مِنَ الشَّرَابِ کے معنے ہیں شراب کے نشے سے مدہوش ہوگیا ( اقرب) پس سُکٰرٰی کے معنے مدہوش کے ہیں۔تفسیر۔اس آیت کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ ضروری نہیں کہ اس آیت کا مفہوم آخرت پر ہی