تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 113

بہائیت ۱۸۴۴ سے شروع ہے اور اب ۱۹۵۸ ؁ہے اس کے معنے یہ ہیںکہ ان کے مذہب کو قائم ہوئے ایک سوچودہ سال ہوگئے اور ایک سوچودہ سال میںایک گائوں بھی تو انہوںنے مقدس نہیںبنایا۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیںحکومت حاصل نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس بھی توحکومت نہیںہم نے تو چندسال میں ربوہ بنا لیا پہلے قادیان بنا ہوا تھا۔اب ربوہ بنا ہوا ہے یہاں ہم آتے ہیں۔نمازیں پڑھتے ہیں۔اکٹھے رہتے ہیں پھرفلسطین میں بھی کرمل پہاڑ کی چوٹی پر ایک پورا گائوں احمدیوں کا ہے جس کانام کبابیرؔ ہے بہائی بھی توبتائیں کہ دنیا میں ان کا کوئی مکان ہے یادنیا میں کسی جگہ پروہ اکٹھے ہوتے ہیں ؟ لیکن اسلام پر صرف نوسال کے قبضے کی وجہ سے ان کے بغض نکلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام ختم ہوگیا اور اپنی حالت یہ ہے کہ عکہ کو مرکز قرار دیا ہوا ہے اور کہتے ہیںکہ حدیثوںمیں بھی پیشگوئیاںتھیں کہ عکہ ان کے پاس ہوگا اور تورات میںبھی پیشگوئیاں تھیں مگر اب عکہ میں بہائیوں کانام ونشان بھی نہیں ہے اور ان کے لیڈر شوقی افندی جو عکہ کی بجائے سال کا اکثر حصہ سوئٹزر لینڈ میں گزارا کئے وہ بھی وفات پاچکے ہیں اوران کے بعد ابھی تک بہائیوں کا کوئی قائم مقام لیڈر بھی تجویز نہیںہوا۔پھر اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں اور کئی جاہل ان کے اعتراضوںسے مرغوب ہوجاتے ہیں۔غرض بابلیوںکے آنے اور رومیوں کے عارضی طورپر وہاں آجانے کو جس کاعرصہ ایک دفعہ ایک سوسال اور دوسری دفعہ قریباًتین سو سال کا تھا۔اگر موسیٰ ؑاور دائود ؑکے پیغام کے منسوخ ہونے کی علامت نہیں قرار دیاگیا تو اس وقت یہود کا عارضی طورپر قبضہ جس میںصرف چند سال گذرے ہیں اسلام کے منسوخ ہونے کی علامت کس طرح قرار دیاجاسکتاہے بلکہ یہ تو اس کے صادق ہونے کی علامت ہے۔جب اس نے خود یہ پیشگوئی کی ہوئی تھی کہ ایک دفعہ مسلمانوںکو نکالا جائے گا اور یہودی واپس آئیںگے تو یہودیوںکاواپس آنا اسلام کے منسوخ ہونےکی علامت نہیں اسلام کے سچاہونے کی علامت ہے۔کیونکہ جو کچھ قران نے کہاتھاوہ پوراہوگیا۔باقی رہا یہ کہ پھر عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ کے ہاتھ میںکس طرح رہا ؟سو اس کا جواب یہ ہے کہ عارضی طورپر قبضہ پہلے بھی دو دفعہ نکل چکا ہے۔اور عارضی طورپر اب بھی نکلا ہے اورجب ہم کہتے ہیں ’’عارضی طورپر ‘‘تو لازماًاس کے معنے یہ ہیںکہ پھر مسلمان فلسطین میںجائیںگے اور بادشاہ ہوںگے اور لازماًاس کے یہ معنے ہیں کہ پھر یہود ی وہاں سے نکالے جائیں گے اور لازماًاس کے یہ معنے ہیںکہ یہ سارا نظام جس کو یو۔این۔او کی مدد سے اور امریکہ کی مددسے قائم کیا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توفیق دے گا کہ وہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجادیں اور پھر اس جگہ پر لاکر مسلمانوں کو بسائیں۔