تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 112

کواکٹھاکرکے اس جگہ پرلے آئیںگے۔اس جگہ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ سے مرادمسلمانوں کے دوسرے عذاب کا وعدہ ہے اور بتایا ہے کہ مسلمانوں پر جب یہ عذاب آئےگا اور دوسری دفعہ ارض مقدس ان کے ہاتھ سے نکل جائےگی اس وقت اللہ تعالیٰ پھریہود کو اس ملک میںواپس لے آئےگا اس جگہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہوئے کہا کرتے ہیںکہ یہود کے آنے کی وجہ سے اسلام منسوخ ہوگیا۔گویا ان کے نزدیک اسلام کے منسوخ ہونے کی یہ علامت ہے کہ عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ نے اس پر قبضہ کرنا تھا۔جب مسلمان وہاں سے نکال دیئے گئے تو معلوم ہو اکہ مسلمان عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ نہیں رہے۔یہ اعتراض زیادہ تر بہائی قوم کرتی ہے لیکن عجیب بات ہے کہ یہی پیشگوئی تو رات میں موجود ہے یہی پیشگوئی قرآن میں موجود ہے اور اس پیشگوئی کے ہوتے ہوئے اس ملک کو بابلیوں نے سوسال رکھامگر اس وقت یہودی مذہب بہائیوں کے نزدیک منسوخ نہیں ہوا۔ٹائٹس کے زمانہ سے لےکر سو دو سو بلکہ تین سوسال تک فلسطین روم کے مشرکوں کے ماتحت رہا وہ عیسائیوں کے قبضہ میںنہیںتھا۔یہودیوں کے قبضہ میں نہیں تھامسجد میںسور کی قربانی کی جاتی تھی۔اور پھر بھی یہودیت کو سچا سمجھا جاتا تھالیکن یہودیوں کے آنے پر نوسال کے اندر اندر اسلام منسوخ ہوگیاکیسی پاگل پن والی اور دشمنی کی بات ہے اگر واقعہ میں کسی غیرقوم کے اندر آجانے سے کوئی پیشگوئی باطل ہوجاتی ہے اور عارضی قبضہ بھی مستقل قبضہ کہلاتاہے تو تم نے سو سال پیچھے ایک دفعہ قبضہ دیکھا ہے تین سو سال دوسری دفعہ کافروں کاقبضہ دیکھاہے اس وقت یہودیت کو تم منسوخ نہیں کہتے اس وقت کی عیسائیت کو تم منسوخ نہیںکہتے لیکن اسلام کے ساتھ تمہاری عداو ت اتنی ہے کہ اسلام میں نو سال کے بعد ہی تم اس قبضہ کو منسوخی کی علامت قرار دیتے ہو جب اتناقبضہ ہوجائے جتنا یہودیت اور عیسائیت کے زمانہ میںرہا تب تو کسی کا حق بھی ہوسکتا ہے کہ کہے لوجی اسلام کے ہاتھ سے یہ ملک نکل گیا لیکن جب تک اتنا قبضہ چھوڑ اس کا دسواں حصہ بھی نہیں ہوا تو اس پراعتراض کرنا محض عداوت نہیںتو اور کیا ہے۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے بہائی ہیں جن کا اپنا وہی حال ہے جیسے ہمارے ہاں مثل مشہور ہے کہ نہ آگا نہ پیچھا وہ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔حالانکہ مکہ مسلمانوں کے پاس ہے مدینہ مسلمانوں کے پاس ہے اور یہ دو اہم اسلامی مراکز ہیں۔ہم ان سے کہتے ہیں ’’چھاج بولے تو بولے چھلنی کیا بولے جس میںنو سو سوراخ ‘‘۔تمہاراکیا حق ہے کہ تم اسلام پر اعتراض کرو تمہارے پاس تو ایک چپہ زمین بھی نہیں جس کو تم اپنا مرکز قرار دے سکو۔اسلام کامکہ بھی موجود ہے اور اسلام کامدینہ بھی موجود ہے۔وہ تو ایک زائد انعام تھا۔وہ ملک اگر عارضی طور پر چلا گیا تو کیا اعتراض ہے ؟