تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 111
باہر نکل کر شہر کی کنجیاں آپ کے حوالے کیں اور کہا کہ آپ اب ہمارے بادشاہ ہیں۔آپ مسجد میںآکر دو نفل پڑھ لیں تاکہ آپ کوتسلی ہوجائے کہ آپ نے ہماری مقدس جگہ میں جو آ پ کی بھی مقدس جگہ ہے نماز پڑھ لی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہاری مسجد میں اس لئے نماز نہیں پڑھتا کہ میں ان کا خلیفہ ہوں۔کل کویہ مسلمان اس مسجد کو چھین لیںگے اور کہیں گے کہ یہ ہماری مقدس جگہ ہے۔اس لئے باہر ہی نماز پڑھوں گا تاکہ تمہاری مسجد نہ چھینی جائے۔پس ایک وہ تھے جنہوں نے وہاں خنزیر کی قربانی کی اور یورپ کامنہ اس کی تعریف کرتے ہوئے خشک ہوتا ہے اورایک وہ تھا جس نے ان کی مسجد میں دونفل پڑھنے سے بھی انکار کیا۔کہ کہیں مسلمان کسی وقت یہ مسجد نہ چھین لیں۔اور اس کو رات دن گالیاں دےجاتی ہیں۔کتنی ناشکر گذار اور بے حیا قوم ہے۔اب مسلمانوں کے پاس فلسطین آجانے کے بعد سوال ہوسکتا ہے کہ یہ ملک یہودیوں کے ہاتھ بھی نہ رہا اور عیسوی سلسلے کے پاس بھی نہ رہا۔یہ کیا معمہ ہے ؟ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ اعتراض نہیں پڑتا اس لئے کہ بعض دفعہ جب کسی بات پر جھگڑ اہوتاہے اور وراثت کے کئی دعوے دار بن جاتے ہیں تو سچے وارث کہتے ہیں کہ ہم ان کے وارث ہیں۔اور ان کے حق میںفیصلہ کردیا جاتاہے یہی صورت اس جگہ واقعہ ہوئی ہے۔خداملک دینے والا تھا۔خداکے سامنے مقدمہ پیش ہوا کہ موسیٰ ؑاور دائودؑ کے وارث یہ مسلمان ہیں۔یا موسیٰ اور دائود کے وارث یہ یہودی اور عیسائی ہیں۔توکورٹ نے ڈگری دی کہ اب موسیٰ اور دائود کے وارث مسلمان ہیں۔چنانچہ ڈگری سے ان کو ورثہ مل گیا۔پھر آگے چل کر فرماتا ہے کہ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا (بنی اسرائیل:۱۰۵) پھر اس کے بعد ایک اور وقت آئے گا۔کہ یہودیوں کو دنیا کے اطراف سے اکٹھا کرکے فلسطین میں لاکر بسادیا جائے گا چنانچہ وہ وقت اب آیا ہے۔جب کہ یہودی اس جگہ پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔کراچی اور لاہور میں میںجب بھی گیاہوں مسلمان مجھ سے پوچھتے رہے ہیں کہ یہ تو خدائی وعدہ تھا کہ یہ سرزمین مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے گی۔پھر یہودیوں کو کیسے مل گئی؟ میں نے کہا۔کہاں وعدہ تھا۔قرآن میں تو لکھاہے کہ پھریہودی بسائے جائیںگے۔کہنے لگے۔اچھاجی یہ تو ہم نے کبھی نہیںسنا۔میں نے کہاتمہیںقرآن پڑھانے والا کوئی ہے ہی نہیں تم نے سننا کہاںسے ہے۔میر ی تفسیر پڑھو تو اس میںلکھاہوا موجود ہے۔تو یہ جو وعدہ تھاکہ پھریہودی ارض کنعان میں آجائیںگے قرآن میںلکھا ہوا موجود ہے۔سورئہ بنی اسرائیل رکوع ۱۲میں یہ لکھا ہوا ہے۔کہ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا جب وہ آخر ی زمانہ کاوعدہ آئے گا۔توپھر ہم تم