تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 7
کردے کہ اے خدا! اس طرح اسلام اور یہودیت کے معاملہ میںشبہ پیداہو جاتا ہے تو ایسا فیصلہ کر کہ اسلام کی سچائی ظاہر ہوجائےاور پھر اس ملک میںمسلمانوںکا غلبہ ہوجائے۔(آیت ۱۰۸تا ۱۱۳) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ (تعالیٰ) کانام لے کر جوبے حد کرم کرنےوالا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے(پڑھتاہوں ) اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ لوگوں کے حساب لینے کا وقت قریب پہنچ چکاہے مگر وہ (پھر بھی) غفلت میں(پڑے ہوئے) ہیںاور مُّعْرِضُوْنَۚ۰۰۲ اعراض کرتے جارہے ہیں۔حل لغات۔اقترب۔اِقْتَرَبَ الْوَعْدُ کے معنے ہیں قَرُب۔وعدہ کے پوراہونے کا وقت آگیا۔(اقرب) تفسیر۔مغربی مصنفین کا خیال ہے کہ سورۃ انبیا ء نویں سال میں نازل ہوئی ہے مسلمان مفسرین چونکہ تُک مارنے کے عادی نہیںانہوں نے اسے مکی قرار دیا ہے۔اگر مغربی مصنفین کے اس دعویٰ کو تسلیم کرلیا جائے کہ یہ سورۃ نویں یادسویں سال نبوت میں نازل ہوئی ہے تو اس کے معنے یہ ہیںکہ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی مکہ سے ہجرت کا وقت قریب آرہا ہے جس کے نتیجہ میںمکہ والوں کی تباہی کے سامان پیدا ہو جائیںگے دوسرے اس میںمدینہ میں اسلام کے پھیلنے کی طرف بھی اشارہ ہوگا جہاں محمدؐرسول اللہ کی فتح کی بنیاد رکھی گئی تھی تعجب ہے کہ عیسائی مستشرقین جیسے ہوشیار لوگ آپ ہی اپنے جال میں پھنس گئے اور انہوں نے اس سورۃ کے نزول کی تاریخ ایسی مقرر کر دی جو ہجرت اور مدینہ میںاسلام پھیلنے کے قریب کے زمانہ کی تھی اور اس طرح تسلیم کر لیا کہ قرآن کریم خدائی کتاب ہے اور اس میں غیب کی اہم خبریں بتائی گئی ہیں جن خبروں کے مطابق عرب جیسے وسیع ملک پر چند سال میں ایک چھوٹی سی قوم غالب آگئی اور مکہ جو ابتدائے عالم سے کبھی فتح نہیںہوا تھااس قوم کے ہاتھوں فتح ہوگیا۔اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ میں ڈرایا جارہا ہے کہ عذاب آنے والا ہے اس کے متعلق سوال پیدا ہوتاہے کہ