تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 102
مطلب ہے کہ جب کوئی قوم ہلاک ہوجاتی ہے سنت الٰہیہ کے مطابق اسے دوبارہ ا ٹھنے کاموقعہ نہیں ملتالیکن یاجوج و ماجوج کے زمانہ میںان کی تباہی و بربادی کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نئی رو چلے گی جس کے نتیجہ میں کفر کا نظام لپیٹ دیاجائےگا اور وہ مسلمان جن میںزندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے پھر ایک فاتح اور طاقتور قوم کی شکل اختیا ر کرلیں گےاور اسلام دنیا پرغالب آجائے گا۔وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ اور( خدا کا) سچا وعدہ قریب آجائےگا تو اس وقت کا فروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ کہیں گے الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ؕ يٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ ہم پر افسوس ہم تو اس دن کے متعلق سخت غفلت میںپڑے رہے بلکہ ہم لوگ تو ظالم تھے (اس وقت کہا جائےگا) كُنَّا ظٰلِمِيْنَ۰۰۹۸اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ تم بھی اور جن چیزوں کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے سب کی سب جہنم کا ایندھن بنیںگی۔تم سب اس میںداخل حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ۰۰۹۹لَوْ كَانَ هٰؤُلَآءِ ہوگے اگر وہ ہستیاں جن کو یہ لوگ معبود بناتے ہیں واقعہ میں معبود ہوتیں تو پھر وہ کبھی جہنم میںنہ جاتیں اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۱۰۰لَهُمْ فِيْهَا اور یہ ہستیاں تو مدتوں اس میںپڑی رہیں گی۔وہ اس میںچیخیں گے اور وہ اس میں(سمجھانے والوں زَفِيْرٌ وَّ هُمْ فِيْهَا لَا يَسْمَعُوْنَ۰۰۱۰۱ میں سے )کسی کی بات نہیں سنیںگے۔حلّ لُغَات۔شَاخِصَۃٌ۔شَاخِصَۃٌ شَخَصَ سے اسم فاعل مونث کاصیغہ ہے۔اور شَخَصَ بَصَرُہٗ کے معنے ہیں فَتَحَ عَیْنَیْہِ وَ جَعَلَ لَا یَطْرِفُ مَعَ دَوْرَانٍ فِی الشَّحْمَةِ اس نے اپنی دونوں آنکھوں کو کھولا اور وہ اس طرح کھلی رہیں کہ وہ حرکت نہ کرتی تھیں۔گویا ایک طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھنا شروع کردیا اور کسی اور طرف نہ دیکھ سکا