تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 101
سمجھدار ہوتے ہیں اور بعض کم پس قوم کو زیادہ سمجھدا ر زیادہ عقلمند اور زیادہ فہیم و تدبر رکھنے والوںکی قابلیت سے محروم نہیں کرنا چاہیے مگر دوسری طرف وہ یہ بھی تسلیم کرتاہے کہ افراد کی مجموعی رائے بھی بڑی طاقت رکھتی ہے اوراس کو نظر انداز کرنا اتنا آسان نہیںہوتا۔جتنابعض لوگ خیال کرتے ہیں اور نہ اسے نظر انداز کرنا انسانی ترقی کومدنظر رکھتے ہوئے مناسب ہے۔بہر حال یہ دونوں اصول آجکل کلی طور پر دنیا کو تقسیم کئے ہوئے ہیں۔آدھی دنیا ایک طرف ہے اور آدھی دوسری طرف۔یعنی آدھی دنیا مغربی ڈیما کرسی کی دلدادہ ہے اور آدھی دنیا ڈکٹیٹر شپ کی طرف مائل ہے مگر خدا تعالیٰ کا کلام بتاتاہے کہ آخر اسلام کو فتح حاصل ہوگی اور مخالف اسلام طاقتیں توڑدی جائیںگی ان طاقتوں نے دنیا میںبہت دیر تک حکومت کر لی ہے۔اب خدا کی غیر ت بھڑک رہی ہے اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکی حکومت دنیا میںپھر قائم کی جائے گی خدا کی بادشاہت پھراس زمین پر لائی جائےگی۔خدا کے وجود کے دشمن مٹائے جائیں گے خواہ دنیا کی کتنی بڑی قومیں ان کی تائید میںکھڑی ہوجائیں اور یقیناً وہ دن دنیا کے لئے بڑا مبارک ہوگاہمارا خدا پھر اپنے تخت پر بٹھایا جائےگا ہمارے رسول کا جھنڈا پھرہوامیںلہرائےگا اور وہ امن اور صلح کا پیغام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا پھردنیا میں پھیلے گا اور دشمنو ںکی زبانیں بند ہوجائیں گی اور وہ اپنے منہ سے اس بات کااقرار کریںگے کہ وہ خدا کے مقدس پر خاک ڈالنے میںناکام رہے ہیں اور اپنے اس فعل پر وہ سخت شرمندہ اور نادم ہوںگے۔ان آیا ت کے متعلق ایک یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ جو یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ تمام قومیں جو ہلاک ہوچکی ہیں ان کے متعلق ہمارا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ وہ دوبارہ اس دنیا میںواپس نہیں آئیں گی یہاں تک کہ یاجوج ماجوج کے لئے دروازہ کھول دیا جائے گا۔اس کے یہ معنی نہیں کہ یاجوج ماجوج کے زمانہ میں مردے زندہ ہونے لگ جائیںگے کیونکہ قرآن کریم دنیا میںمردوں کے دوبارہ زندہ ہونےکا قطعی طور پر منکر ہے وہ صاف طورپر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بعض ارواح یہ استدعا کریں گی کہ ان کو واپس کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ نیک اعمال کریں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گاکہ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ(المومنون :۱۰۱) ایسا ہرگز نہیںہوسکتا کیونکہ قیامت تک روحوں اور اس دنیا کے درمیان ایک حد فاصل مقرر کردی گئی ہے اور کوئی روح اس دنیا کی طرف واپس نہیں لوٹ سکتی پس دنیا میں مُردوںکا دوبارہ احیا ء قرآنی تعلیم کے روسے بالکل ناممکن ہے پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کاکیا مفہوم ہے۔سو جیسا کہ خلاصہء مضامین میںبیان کیا جاچکا ہے اس آیت کا یہ