تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 92
بنی نوع انسان کے گناہ معاف ہو چکے تھے اور اب بیٹے کے تجسم کی کوئی ضرورت نہ تھی۔وہ ویسا ہی کامل ہو چکا تھا جیسے خدا کا باپ کامل ہے مگر انجیل سے پتہ لگتا ہے کہ صلیب کے واقعہ کے بعد بھی جب ان کے نزدیک مسیح دوبارہ زندہ ہوا مسیح کے ساتھ اس کا جسم تھا اور وہ اسی جسم سمیت آسمان پر گیا یا بعض دوسری روایتوں کے مطابق اسی جسم کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر جا کر غائب ہو گیا۔گویا صرف یہی نہیں کہ انجیل کے رو سے مسیح قبر میں سے جسم لے کر نکلا۔حالانکہ اسے جسم کے ساتھ نکلنا نہیں چاہیے تھا۔بلکہ وہ آسمان پر بھی اس جسم کو لے گیا۔حالانکہ اب جسم کے کوئی معنے ہی نہیں تھے۔جب تک وہ دنیا میں نہیں آیا تھا اس کا کوئی جسم نہیں تھا پھر عارضی طور پر اس نے بنی نوع انسان کے گناہوں کو اپنے اوپر لینے کے لئے جسم اختیار کیا۔اس کے بعد جب وہ غرض پوری ہو چکی تو لازماً اس کے ساتھ اس کا جسم نہیں ہونا چاہیے تھا۔مگر انجیل بتاتی ہے کہ دوبارہ جی اٹھنے کے بعد بھی وہ جسم سمیت اٹھا اور پھر آسمان پر بھی جسم سمیت گیا۔اس طرح اس کی خدائی کی ساری عمارت گر جاتی ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے۔کہ مسیح ؑ جو عیسائیوں کے نزدیک خدا باپ کے برابر ہے۔وہ اب تک اسی جسم کے ساتھ آسمان پر بیٹھا ہوا ہے اور اس قید کے ساتھ مقید ہے۔اور پھر ا نجیل میں یہ بھی کوئی ذکر نہیں کہ وہ کب اس جسم سے الگ ہو گا بلکہ انجیل سے تویہ ظاہر ہے کہ جب وہ دوبارہ آئے گاتب بھی اسی جسم کے ساتھ آئے گا۔کیونکہ لکھا ہے جب وہ آئے گا تو ’’اس وقت لوگ ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے دیکھیں گے۔‘‘ (یعنی اس کا دعویٰ آسانی کے ساتھ نہیں پہچانا جائے گا بلکہ کسی قسم کے شکوک و شبہات بھی اس کے متعلق پیدا کئے جائیں گے) (مرقس باب ۱۳ آیت ۲۶) گویا انجیل یہ بتاتی ہے کہ دوبارہ بھی لوگ اسی جسم کے ساتھ مسیح کو آسمان سے اترتا دیکھیں گے۔اور یہ ظاہر ہے کہ اب دوبارہ مسیح پر موت نہیں آ سکتی۔کیونکہ پہلی موت اس پر کفارہ کے لئے آئی تھی جب وہ کفار ہ ہو چکا تو اب دوسری موت کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی۔اس کے معنے یہ ہیں کہ یا تو عیسائیوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ مسیح ؑ اب ہمیشہ کے لئے جسم کی قید میں رہے گا اور وہ اس سے کبھی رہائی حاصل نہیں کر سکتا اور یا انہیں یہ ماننا پڑے گا کہ وہ تھیوری جو ان کے تجسم کے متعلق انہوں نے پیش کی تھی وہ باطل ہے کیونکہ اگر یہ تھیوری درست ہوتی تو صلیب کے واقعہ کے بعد انہیں جسم سے آزاد ہو جانا چاہیے تھا مگر بجائے آزاد ہونے کے وہ بائبل کے رو سے اسی جسم کے ساتھ زندہ ہوئے اور اسی جسم کے ساتھ آسمان پر چلے گئے۔پھر عیسائیوں کا یہ دعویٰ کہ مسیح ؑکفارہ ہو گیا ہے اس دعویٰ کے ثابت کرنے سے پہلے یہ سوال حل کرنا بھی