تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 88

ہیں لیکن مسلمانوں کا سمجھدار طبقہ ہمیشہ سے یہی تسلیم کرتا چلا آیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو تمام انسانوں کے سردار ہیں۔تمام نبیوں کے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ کے محبوب اور پیارے ہیں۔لیکن بہرحال وہ انسان ہیں پس مسیح جب کہتا ہے کہ میں خدا کا بیٹا ہوں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ وہ باتیں جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں کیا وہ ان کا مدعی ہے؟ جہاں تک کھانے پینے کاسوال ہے عیسائی یہ کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ مسیح ؑانسانی بھیس میں آیا تھا اس لئے وہ کھاتا پیتا تھا۔ہم اس بحث میں نہیں پڑتے لیکن کم از کم جو روحانی باتیں ہیں وہ تو خدا میں رہے گی یہ تو نہیں کہ خدا اس دنیا میں آ کر وہ کمالات بھی بھول جائے گا جو خدا ہونے کی حیثیت سے اس میں پائے جانے چاہئیں۔مرقس باب ۱۰ آیت ۱۷۔۱۸ میں لکھا ہے۔’’ اور جب وہ باہر نکل کر راہ میں جا رہا تھا تو ایک شخص دوڑتا ہوا اس کے پاس آیا اور اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس سے پوچھنے لگا کہ اے نیک استاد میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں۔یسوع نے اس سے کہا تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا۔‘‘ پہلی صفت خدا تعالیٰ کی اس کا نیک ہونا ہے کیونکہ عیب دار خدا نہیں ہو سکتا۔لیکن پہلی ہی صفت جو خدا میں پائی جانی ضروری ہے مسیح اس سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا ‘‘ میں اس جگہ دوستوں کو ہوشیار کر دینا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعتراضات سن کر عیسائیوں نے اب بعض مقامات سے بائبل کو بدل ڈالا ہے۔مثلاً اسی واقعہ کو متی میں اب اس طرح درج کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح نے اسے یہ جواب دیا کہ ’’تو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے نیک تو ایک ہی ہے‘‘ (متی باب ۱۹ آیت ۱۷) حالانکہ انگریزی بائیبلیں جو انگلستان میں چھپی ہوئی ہیں اور بائبل کے وہ اردو ایڈیشن جو ۱۹۱۰؁ء سے پہلے کے ہیں۔ان سب میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ حضرت مسیح ؑنے اسے یہ جواب دیا کہ ’’ توکیوں مجھے نیک کہتا ہے؟نیک تو کوئی نہیں ،مگر ایک یعنی خد ا‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اعتراض کیا کہ تم کہتے ہو کہ مسیح ؑخدا کا بیٹا تھا اس لئے وہ کفارہ ہو گیا۔حالانکہ یہ حوالہ صاف بتا رہا ہے کہ مسیح خدا نہیں تھا کیونکہ وہ تو اپنے نیک ہونے سے بھی انکار کر رہا ہے اور جب وہ خدا نہیں تھا تو کفارہ کس طرح ہوا۔گویا ایک طرف اس سے کفارہ باطل ہو جاتا ہے اور دوسری طرف اس سے توحیدثابت