تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 78

اور باغ کا پھل اسے دے دیں لیکن جب اس کا اکلوتا بیٹا باغبانوں کے پاس آیا تو انہوں نے آپس میں مل کر یہ فیصلہ کیا کہ آئو ہم اسے قتل کردیں تاکہ یہ باغ ہماری میراث ہو جائے اور پھر ہمیںپوچھنے والا کوئی نہ رہے چنانچہ انہوں نے بیٹے کو باغ کے باہر پھانسی پر لٹکا دیا۔حضرت مسیح یہ تمثیل بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں تم جانتے ہو پھر کیا ہوگا۔پھر یہی بات رہ جائے گی کہ باغ کا مالک آپ آئے گا اور وہ ان مالیوں کو نکال دے گا اور باغ کو کسی اور قوم کے سپرد کر دے گا۔یہ تمثیل صاف بتاتی ہے کہ بیٹے کا آنا سزا کے لئے ہو گا چونکہ وہ لوگ باغ کا مالیانہ ادا نہیں کرتے تھے اس لئے خدا اپنے بیٹے کو بھیجے گا تاکہ ان پر حجت تمام کرکے انہیں سزا دے پس یہ تمثیل مسیح کے اس قول کے بالکل خلاف ہے کہ ’’ خدا نے بیٹے کودنیا میں اس لئے نہیں بھیجا کہ دنیا پر سزا کا حکم کرے بلکہ اس لئے کہ دنیا اس کے وسیلہ سے نجات پائے‘‘ پھر متی میں لکھا ہے کہ مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ :۔’’ تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بنائو اور ان کو باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نا م سے بپتسمہ دو۔‘‘ (متی باب ۲۸ آیت ۱۹) اس کے علاوہ بھی بعض جگہوں پر حضرت مسیح نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہا ہے۔لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھلانا چاہیے کہ جہاں حضرت مسیح ؑنے بعض جگہ اپنے آپ کو بیٹابلکہ اکلوتا بیٹا کہا ہے وہاں اکثر مقامات پر اپنے آپ کو ابن آدم بھی کہا ہے۔پس ہمارا کیا حق ہے کہ ہم ان کے ایک دعویٰ کو دوسرے دعویٰ پر فوقیت دیں۔مسیح ؑہی کہتا ہے کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور مسیح ہی کہتا ہے کہ میں ابن آدم ہوں۔اور جب دونوں دعوے ایک شخص کے ہیں تو ان میں سے کسی ایک دعویٰ کو دوسرے دعویٰ پر فوقیت دے دینا ہمارے لئے جائز نہیں ہوسکتا۔ہمیں یا تو دلائل سے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ابن اللہ والی بات غلط ہے اور یا دلائل سے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ابن آدم والی بات غلط ہے۔بہرحال جب ایک شخص دونوں باتیں کہتا ہے تو محض اپنے عقل سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں بات سچی ہے اور فلاں بات غلط۔انجیل میں لکھا ہے:۔’’ ابن آدم اس لئے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اس لئے کہ خدمت کرے ‘‘ (متی باب ۲۰ آیت ۲۸) (مثیل مسیح یعنی بانی سلسلہ احمدیہ نے بھی یہی کہا ہے۔؎ ’’ منہ از بہر ما کرسی کہ مامور یم خدمت را ‘‘ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۵) یعنی میرے لئے کرسی نہ رکھو کہ مجھے خدا نے دنیا کی خدمت کے لئے مامور کیا ہے)چونکہ دنیا میں عام طور پر