تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 4

ضعف پہنچتا ان کو ایسا ٹھکانا میسر آ گیا ہے کہ اب وہ ہمارے خلاف بڑی آسانی کے ساتھ پروپیگنڈا کریں گے اور ہماری ہمسایہ حکومت کو ہمارے خلاف اکسائیں گے۔چنانچہ اس کے انسداد کے لئے انہوں نے مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ ایک وفد حبشہ جائے اور اس کے ساتھ مختلف قسم کے تحائف بھیجے جائیں جو بادشاہ اور اس کے امراء اور پادریوں وغیرہ کے لئے ہوں۔یہ وفد بادشاہ کے سامنے پیش ہو اور اسے کہے کہ تم ہمارے ہمسایہ ہو اور تمہارے ساتھ ہمارے بڑے اچھے تعلقات ہیں۔لیکن اب ہماری قوم کے کچھ باغی تمہارے ملک میں آ کر پناہ گزیں ہو گئے ہیں ان لوگوں کو اپنے ملک سے نکال دو اور واپس مکہ میں بھجوا دو اور تجویز کی کہ اسی موقعہ پر بادشاہ اور اس کے درباریوں کو تحائف دئیے جائیں تاکہ ان کے دل میں نرمی پیدا ہو اور وہ ان لوگوں کو واپس کر دیں۔چنانچہ یہ وفد حبشہ گیا۔اس وفد میں حضرت عمرو بن العاص بھی جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے شامل تھے۔عمرو بن العاص بڑے لَسّان آدمی تھے اور عام طور پرحکومت کی طرف سے جو ڈیپوٹیشن جاتے تھے ان میں عمرو بن العاص ضرور شامل ہوتے تھے۔چنانچہ بعض اور جگہوں پر بھی مکہ والوں نے ان کو بھیجا ہے۔انہوں نے نجاشی بادشاہ حبشہ کے سامنے بڑی عمدہ تقریر کی اور کہا بادشاہ سلامت آپ ہمارے ہمسائے ہیں۔یمن میں آپ کی حکومت ہے اور یمن اور حجاز ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں اس وجہ سے ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے۔مگر اب یہ ایک نیا فتنہ پیدا ہو گیا ہے کہ ہمارے ملک کے کچھ بھگوڑے آپ کے ملک میں آ گئے ہیں اور آپ نے ان کو پناہ دے دی ہے۔ہم حیران ہیں کہ آپ نے ہمارا ہمسایہ اور تعلق دار ہو کر ہمارے دشمنوں کو پناہ کس طرح دے دی ہے۔آپ انہیں مکہ میں واپس بھجوا دیں تاکہ ہمارے تعلقات آپ سے بدستور اچھے رہیں۔اور ان میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو۔بادشاہ نے کہا میں ان لوگوں کو بلوا کر اور ان سے پوچھ کر فیصلہ کروں گا۔چنانچہ مسلمان مہاجرین کو بلوایا گیا اور بادشاہ نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا جھگڑا ہے صحابہؓ نے کہا ہمارا ا ن سے کوئی سیاسی جھگڑا نہیں صرف مذہبی اختلاف ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے شہر میں خدا تعالیٰ کا ایک نبی آیا جسے ہم نے قبول کر لیا۔اب یہ لوگ ہمیں ہمارے مذہب کے مطابق عبادت کرنے نہیں دیتے اور مذہبی معاملات میں دخل دیتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی عبادت کریں اور یہ کہتے ہیں کہ جس طرح ہم عبادت کرتے ہیں اس طرح عبادت کرو اور چونکہ ہم ایسا نہیں کرتے اس لئے یہ برا مناتے اور ہمیں دکھ دیتے ہیں۔جس سے مجبور ہو کر ہمیں اپنا ملک اور اپنی قوم چھوڑنے پڑے۔بادشاہ پر اس کا نیک اثر ہوا اور اس نے کہا عقائد میں اختلاف تو ہوا ہی کرتا ہے اس بنیاد پر ہم مسلمانوں کو واپس نہیں کر سکتے (تاریخ کامل ابن اثیر جلد۲صفحہ۳۲) اور اس نے مسلمانوں سے کہا کہ تم میرے ملک میں آزادی