تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 73
منہ کیوں بگڑا ہوا ہے) اگر تو بھلا کرے تو کیا تو مقبول نہ ہوگا اور اگر تو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے پر تواس پر غالب آ۔‘‘ (پیدائش باب ۴ آیت ۳ تا۷) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ :۔اول باوجود آدم کے گناہ کے اس کے بعض بیٹوں کی قربانی قبول ہوتی تھی۔چنانچہ ہابیل کی قربانی قبول ہوئی اور وہ خدا تعالیٰ کا منظور نظر ہو گیا۔کیونکہ لکھا ہے کہ ’’ خداوند نے ہابل کو اور اس کے ہدیہ کو منظور کیا‘‘ ہابل کو قبول کرنے کے یہ معنے تو نہیں ہو سکتے کہ خدا نے ہابل کو اپنی گود میں اٹھا لیا۔ا س کا مطلب یہی ہے کہ خدا نے اس کو اپنا منظور نظر بنا لیا اور اس کے ہدیہ کو ایک زندہ قربانی تصور کیا جو انسان کے درجہ کو برابر بڑھاتی چلی جاتی ہے۔کیونکہ ہدیہ قبول کرنے کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ اس کا نتیجہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بندہ کو ملنا شروع ہو جائے۔اب ہابل اور قائن دونوں آدم ؑکی اولاد تھے اور آدم کے گناہ کے بعد پیدا ہوئے۔ان دونوں میں ورثہ کے طور پر گناہ آنا چاہیے تھا۔مگر باوجود اس کے کہ وہ گناہ لے کر پیدا ہوئے تھے جب انہوں نے قربانی کی تو ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی قربانی ردّ کی گئی۔اگر ورثہ میں انہیں گناہ ملا تھا تو اول تو انہیں قربانی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی اور اگر کرتے تو دونوں کی قربانیاں ردّ کر دی جاتیں۔دوم۔اسی حوالہ میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے قائن سے کہا ’’ اگر تو بھلا کرے تو کیا تو مقبول نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اگر تو نیک بنے تو کیا خدا تجھے اپنا مقرب نہ بنائے گا۔ان الفاظ کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر تو نیک بننا چاہے تو بن سکتا ہے اور نیک بننے کادروازہ تیرے لئے ہر وقت کھلا ہے اور ’’ کیا تو مقبول نہ ہوگا ‘‘ کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا مقبول اور اس کا مقرب بننے کا دروازہ بھی تیرے لئے کھلا ہے جو نجات سے بڑا درجہ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک بنی نوع انسان خدا تعالیٰ کے حضور عمل سے مقبول ہوتے تھے نہ کہ کفارہ سے۔اور یہ کہ گناہ کرنے کے بعد بھی انسان توبہ سے مقبول ہو سکتا تھا۔اور یہ دونوں باتیں بتاتی ہیں کہ ہر انسان نیک بھی بن سکتا ہے اور ہر انسان خدا تعالیٰ کا مقرب بھی ہو سکتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو قائن جو گناہ کی وجہ سے نامقبول ہو چکا تھا اسے یہ نہ کہا جاتا کہ’’ اگر تو بھلا کرے تو کیا تو مقبول نہ ہو گا۔‘‘ سوم۔پھر لکھا ہے:۔’’اگر تو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے‘‘