تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 72
کہ خدا باپ اور خدا روح القدس کے مرنے سے دنیا فنا ہو جاتی تھی اس لئے خدا بیٹے نے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیا۔لیکن اس صورت میں ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بیٹا ناقص خدا ہے اس کے مرنے سے دنیا فنا نہیں ہو سکتی تھی اس لئے اسے پیش کر دیا گیا۔باپ خدا نے اپنے آپ کو اس لئے پیش نہ کیا۔کہ اگر وہ مرا تو ساری دنیا تباہ ہو جائے گی۔دوسرا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ خدا باپ اور خدا روح القدس کے دل میں بنی نوع انسان کی اتنی محبت اور اتنا پیار نہیں تھا جتنا پیار خدا بیٹے کے دل میں تھا۔مگر یہ جواب خدا باپ اور خدا روح القدس دونوں کو ناقص قرار دیتا ہے۔دوسرے انجیل کے بھی خلاف ہے کیونکہ انجیل میں لکھا ہے کہ خدا محبت ہے(۲۔کرنتھیوں باب ۱۳ آیت ۱۱) اور یہ فقرہ نہ روح القدس کے متعلق ہے نہ مسیح کے متعلق ہے۔غرض ایک صورت میں بیٹا ناقص قرار پاتا ہے اور ماننا پڑتا ہے کہ وہ ایک غیر ضروری شئے تھا جس کے مرنے سے دنیا فنا نہیں ہو سکتی تھی۔لیکن اگر خدا باپ مر جاتا تو ساری دنیا تباہ ہو جاتی اور اگر بیٹے کے دل میں بنی نوع انسان کی کامل محبت تھی تو پھر باپ خدا اور روح القدس خدا دونوں ناقص قرار پاتے ہیں۔بہرحال دونوں صورتوں میں ایک نہ ایک خدا ضرور ناقص قرار پاتا ہے اور ناقص چیز تمام مذاہب کے مسلمہ عقیدہ کے مطابق خدا نہیں ہو سکتی۔پھر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہودیت کے نزدیک کفارہ ضروری ہے ؟ ہم کہتے ہیں بائبل سے پتہ لگتا ہے کہ کفارہ ضروری نہیں اس لئے کہ کفارہ کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب گناہ معاف نہ ہو سکتے ہوں لیکن بائبل کہتی ہے کہ گناہ معاف ہو سکتے ہیں اور تمام بائبل گناہوں کی معافی کی تعلیم سے بھری ہوئی ہے۔اسی طرح ان قربانیوں کی تعلیم سے بھری پڑی ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہوتی ہیں۔بلکہ بائبل بتاتی ہے کہ خود آدم کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوئے جن کی قربانیوں کو خدا نے قبول کیا اور انہیں اپنے قرب میں جگہ دی۔بائبل میں لکھا ہے:۔’’چند روز کے بعد یوں ہوا کہ قائن اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خداوند کے واسطے لایا اور ہابل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کچھ پلوٹھے بچوں کا اور کچھ ان کی چربی کا ہدیہ لایا اور خداوند نے ہابل کو اور اس کے ہدیہ کو منظور کیا (یعنی ہابل بھی خدا تعالیٰ کا مقرب ہو گیا اور اس کا ہدیہ بھی منظور ہو گیا) پر قائن کو اور اس کے ہدیہ کو منظور نہ کیا۔(یہ قائن وہی ہے جسے ہمارے ہاں قابیل کہتے ہیں ) اس لئے قائن نہایت غضبناک ہوا اور اس کا منہ بگڑا اور خداوند نے قائن سے کہا تو کیوںغضبناک ہوا اور تیرا منہ کیوں بگڑا ہوا ہے (یعنی خدا تعالیٰ نے جب قائن کے ہدیہ کو قبول نہ کیا تو اس کا منہ بگڑ گیا اور اسے سخت غصہ آیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کا منہ بگڑا ہوا دیکھا تو اس نے کہا اے قائن تجھے کیوں غصہ آیا ہے اور تیرا