تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 71

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران :۳۲)اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو لوگوں سے یہ کہہ دے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اس قدر روحانی ترقی حاصل کرو کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جائو تو میری اطاعت کرو اور میری بیعت میں شامل ہو جائونتیجہ یہ ہوگا کہ نہ صرف تم نجات پا جائو گے بلکہ خدا تعالیٰ کے محبوب بن جائو گے گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانے سے انسان کو صرف نجات ہی نہیں ملتی بلکہ وہ اس قدر روحانی ترقی حاصل کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ(الانفال :۲۵) کہ اے مومنو! تم خدا اور اس کے رسول کے احکام کو قبول کرو کیونکہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے اپنی طرف بلا رہا ہے اس جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو زندہ کرتے ہیں اور چونکہ انجیل خود تسلیم کرتی ہے کہ گناہ کا نتیجہ موت ہے۔اس لئے ان الفاظ میں درحقیقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کا نجات دہندہ قرار دیا گیا ہے اوربتایا گیا ہے کہ آپ کی اتباع میں ہی بنی نوع انسان کو اس موت سے نجات مل سکتی ہے جو گناہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔کفارہ کے متعلق ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تین اقنوم تھے تو پھر مسیح کے ذمہ کفارہ کیوں لگایا گیا۔مان لیا کہ آدم نے گناہ کیا تھا یہ بھی ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ آدم کا گناہ ورثہ کے طو رپر اس کی اولاد میں چلا گو یہ بالکل احمقانہ بات ہے۔اس کے بعد ہم یہ تیسری احمقانہ بات بھی مان لیتے ہیں کہ ورثہ کا گناہ ایسی چیز ہے جو کسی طرح علاج پذیر نہیں ہو سکتا۔اس کے لئے بہرحال کوئی خارجی علاج چاہیے۔پھر یہ چوتھی احمقانہ بات بھی ہم مان لیتے ہیں کہ اس ورثہ کے گناہ کا علاج کفارہ ہے گو یہ علاج بالکل ویسا ہی ہے جیسے ہمارے ملک کی مثل ہے کہ ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔کسی کے گھٹنے پر چوٹ لگی تو اس نے اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھ کر شور مچانا شروع کر دیا کہ ہائے مر گیا۔ہائے مر گیا۔یہ بھی بالکل وہی بات ہے کہ دنیا سے گناہ دور نہیںہو سکتا لیکن مسیح ؑ کے صلیب پر لٹکنے سے وہ گناہ دور ہو گیا۔یہ بالکل بے جوڑ بات ہے لیکن چلو ہم مان لیتے ہیں کہ ایسا ہوا اور یہ بھی مان لیتے ہیں کہ اس کے لئے کوئی خدائی طاقتوں والا وجود چاہیے مگر سوال یہ ہے کہ اس غرض کے لئے خدا باپ نے کیوں نہ اپنے آپ کو پیش کر دیا۔آخر رحم کی صفت خدا باپ میں بھی پائی جاتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ دنیا پر اتنا رحم کرتا ہے کہ جس کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔تو خدا باپ نے کیوں نہ اپنے آپ کو کفارہ کے لئے پیش کر دیا ؟ روح القدس خدا نے کیوں نہ اپنے آپ کو پیش کر دیا؟آخر کیا وجہ ہے کہ بیٹے نے اس غرض کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا؟ اس کے دو ہی جواب ہو سکتے ہیں یا تو یہ بات ماننی پڑے گی