تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 69
کا کفارہ ہو جائے اگر مسیح خدا تعالیٰ کا بیٹا تھا تو پھر وہ ابراہیم کا بیٹا نہیں تھا اور اگر وہ ابراہیم کا بیٹا تھا تو کفارہ کا موجب نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کا بیٹا نہیں تھاپس حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی کو مسیح پر چسپاں کرنا کفارہ کی ساری بنیاد ہی اکھیڑ دیتا ہے مجھے یاد ہے میں چھوٹا تھا سترہ اٹھارہ سال میری عمر ہو گی کہ میں لاہور گیا اور مجھے شوق پیدا ہوا کہ میں کسی پادری سے گفتگو کروں لاہور کا سب سے بڑا پادری جو بعد میںمشنری کالج سہارنپور کا پرنسیپل مقرر ہو گیا تھا میں اس سے ملنے چلا گیا اور میں نے اس سے یہی سوال کیا کہ پہلے لوگ کس طرح نجات پاتے تھے؟ وہ کہنے لگا وہ بھی مسیح پر ایمان رکھتے اور اس ایمان کی وجہ سے ہی انہوں نے نجات پائی۔میں نے کہا اگر میں کہہ دوں کہ مجھ پر ایمان لا کر انہوں نے نجات پائی ہے تو پھر اس کا کیا حل ہوگا؟ وہ کہنے لگاپیشگوئی بھی تو ہونی چاہیے۔میں نے کہا یہ ٹھیک ہے آپ یہ بتائیں کہ مسیح کے متعلق کون سی پیشگوئی تھی؟ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی پیش کی۔میں نے کہا آپ ابراہیم کی ساری پیشگوئیاں نکال لیں اگر ان میں ایک طرف یہ ذکر آتا ہے کہ میں اسحاق کی اولاد کو یوں برکت دوں گا تو ساتھ ہی اسمٰعیل ؑ کی اولاد کا بھی ذکر ہے۔اگر آپ کا یہ حق ہے کہ آپ اس پیشگوئی مسیح ؑ پر چسپاں کریں تو ہمیں کیوں یہ حق حاصل نہیں کہ اس پیشگوئی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں کر لیں جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے؟ پھر میں نے کہا پہلے آپ میرے اس سوال کا جواب دیں کہ کفارہ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ مسیح ؑخدا کا بیٹا تھا۔اگر وہ ابراہیم ؑکا بیٹا تھا تو کفارہ نہیں ہو سکتا۔میرے اس سوال پر اس نے بڑے چکر کھائے حالانکہ وہ بچپن ساٹھ سال کی عمر کا تھا۔آخر گھنٹہ بھر کی بحث کے بعد وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا مجھے معاف فرمائیں۔یونانی میں ایک مثل ہے کہ ہر بیوقوف سوال کر سکتا ہے مگر جواب دینے کے لئے عقلمند انسان چاہیے۔گویا اس نے مجھے بیوقوف بنایا اور اپنے متعلق کہا کہ میں اتنا عقل مند نہیں کہ ہر بے وقوف کا جواب دے سکوں۔میرا بھی اس وقت جوانی کا زمانہ تھا میں بھلا کب رکنے والا تھا میں نے کہا مجھے بڑا افسوس ہے میں آپ کو عقل مند سمجھ کر ہی آیا تھا۔تو مسیح ؑ اگر ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے تھا تو کفارہ باطل ہو جاتا ہے اور اگر وہ خدا کا بیٹا تھا تو ابراہیم کی پیشگوئی پوری نہیں ہوتی۔گویا دونوں صورتوں میں اعتراض پیدا ہوتا ہے ایک صورت میں مسیح ؑ کفارہ نہیں بن سکتا اور دوسری صورت میں ابراہیم کی پیشگوئی پوری نہیں ہوتی۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد میں سے کسی آنے والے کی خبر دی ہے تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ وہ ہے کون حضرت ابراہیم ؑ کہتے ہیں کہ میری اولاد میں سے ایک شخص آئے گا اور ابراہیمی نسل میں بھی یہ مشہور ہے کہ اس نے کسی بڑے آدمی کے ظہور کی خبر دی تھی اب ہم د یکھتے ہیں کہ دنیا میں دو آدمی کھڑے ہوتے ہیں