تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 66
اس جگہ پولوس اپنی قوم کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ یسوع مسیح ہمیشہ کے لئے ملک صدق سالم کے طریقہ کا سردار کاہن بن کر ہماری خاطر پیشرو کے طور پر داخل ہوا ہے یعنی باقی لوگ تو مر جاتے ہیں۔موسیٰ ؑ آئے اور فوت گئے۔دائود ؑ آئے اور فوت ہو گئے ، سلیمان ؑ آئے اور فوت ہو گئے لیکن ملک صدق سالم نہیں مرا۔اسی طرح مسیح ؑ بھی نہیں مرا۔پھر آگے لکھا ہے:۔’’ اور یہ ملک صدق ، سالم کا بادشاہ خدا تعالیٰ کا کاہن ہمیشہ کاہن رہتا ہے ‘‘ (عبرانیوں باب ۷ آیت ۱) یعنی ملک صدق سالم پر کبھی موت نہیں آتی۔پھر لکھا ہے:۔’’ جب ابراہام بادشاہوں کو قتل کر کے واپس آتا تھا تو اسی نے اس کا استقبال کیا اور اس کے لئے برکت چاہی۔‘‘ (عبرانیوں باب ۷ آیت ۱) یعنی ملک صدق سالم نےا براہیم کو برکت دی۔معلوم ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑا سمجھتا تھا کیونکہ بائبل سے پتہ لگتا ہے کہ ملک صدق سالم نے یہ نہیں کہا کہ اے ابراہیم خدا تجھے برکت دے بلکہ اس نے یہ کہا کہ اے ابراہیم تیرے مال میں برکت ہو یعنی میں تجھے برکت دیتا ہوں۔اور لکھا ہے:۔’’ اسی کو ابراہیم نے سب چیزوں کی دہ یکی دی‘‘ آگے لکھا ہے:۔’’ یہ اول تو اپنے نام کے معنی کے موافق راستبازی کا بادشاہ ہے (کیونکہ صدق راستبازی کو کہتے ہیں ) اور پھر سالم یعنی صلح کا بادشاہ (سالم سلامتی سے نکلا ہے) یہ بے باپ ، بے ماں ، بے نسب نامہ ہے۔نہ اس کی عمر کا شروع نہ زندگی کا آخربلکہ خدا کے بیٹے کا مشابہ ٹھہرا۔‘‘ (عبرانیوں باب ۷ آیت ۲، ۳) یعنی ملک صدق سالم کا نہ باپ تھا نہ ماں تھی۔وہ خدا تعالیٰ کی طرح ازلی ابدی تھا۔نہ اس کی عمر کا کوئی شروع ہے اور نہ زندگی کا آخر۔نہ کبھی پیدا ہوا اور نہ کبھی مرتا ہے۔وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے زندہ ہے اور خدا تعالیٰ کے بیٹے کے مشابہ ہے جس طرح مسیح ازل سے ابد تک ہے (وہ مسیح نہیں جو مریم کے پیٹ سے پیدا ہوا۔بلکہ وہ مسیح جو اقنوم ثلاثہ