تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 59

اللہ تعالیٰ کا آدم کو آوازیں دینا اور کہنا اے آدم تو کہاں ہے۔یہ سب تمثیلی کلام ہے۔اسی طرح باقی واقعہ بھی تمثیلی ہے پس اس پر کسی مذہبی عقیدہ کی بنیا د رکھنا عقل کے خلاف ہے۔پھر جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں آدم کا گناہ کر لینا حالانکہ اس کا نہ باپ تھا نہ ماں یہ بھی بتاتا ہے کہ گناہ اور نیکی دونوںخاص حالات میں ظاہر بھی ہو سکتے ہیں اور مٹ بھی سکتے ہیں۔پس کفارہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔اگر باہر سے نیکی نہیں آ سکتی تو باہر سے گناہ بھی نہیں آ سکتا۔اور اگر گناہ باہر سے آ سکتا ہے تو نیکی بھی آ سکتی ہے۔اگر آدم جس کا نہ باپ تھا نہ ماں اس کے اندر باہر سے گناہ آ گیا تو اولاد میں باہر سے نیکی بھی آ سکتی ہے۔یہ دونوں چیزیں مساوی سمجھی جائیں گی۔پھر بائبل سے پتہ لگتا ہے کہ آدم گناہ کے باوجود خدا تعالیٰ کا مقدس رہا ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب عیسائیوں کی طرف سے یہی دیا جاتا ہے کہ آدم کا گناہ بخشا گیا ہم کہتے ہیںاسی طرح اولاد کا گناہ بھی بخشا جا سکتا ہے ان کے لئے کسی کفارہ کی ضرورت نہیں رہتی۔کفارہ کے مسئلہ کو ثابت کرنے کے لئے یا انسان کے نفس کے ایسے خراب ہو جانے کے لئے کہ اس کی درستی اور اصلاح ناممکن ہو یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے کہ آدم کے گناہ کے بعد انسان خراب ہو گیا اور وہ نیکی پر قائم نہیں رہ سکا۔اگر بائبل سے یہ ثابت ہو کہ انسان آدم کے گناہ کے بعد نیکی پر قائم نہیں رہ سکا تو پھر بائبل کے مطابق کفارہ کو درست تسلیم کرنا پڑے گا لیکن اگر بائبل سے ہی پتہ لگے کہ آدم کے گناہ کے بعد (جسے قرآن کریم گناہ قرار نہیںدیتا)انسان خراب نہیں ہو ابلکہ وہ نیکی پر قائم رہا تو پھر کفارے کی بنیاد ہی باطل ہو جاتی ہے جب کفارہ کے بغیر انسان نیک بھی ہو سکتا تھا اور گناہ سے بھی بچ سکتا تھا تو اس کی نجات کے لئے کسی نئی چیز کی ضرورت نہ رہی۔اس بارہ میں ہم انجیل ہی کی تعلیم لے لیتے ہیں۔رومیوں باب ۵ آیت ۱۴ میں لکھا ہے:۔’’آدم سے لے کر موسیٰ تک موت نے ان پر بھی بادشاہی کی جنہوں نے اس آدم کی نافرمانی کی طرح جو آنے والے کا مثیل تھا گناہ نہ کیا تھا۔‘‘ اس جگہ آنے والے سے مراد مسیح ؑ ہے او رآنے والے کا مثیل آدم کو قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آدمؑ سے لے کر موسیٰ ؑ تک موت نے ان پر بھی بادشاہت کی جنہوں نے آدم کی طرح (جو مسیح کا مثیل تھا) گناہ نہیں کیا تھا گویا پولوس مانتا ہے کہ آدم ؑ سے لے کر موسیٰ ؑ تک بہت سے لوگ ایسے بھی گزرے ہیںجنہوں نے گناہ نہیں کیا تھااور جب انہوں نے گناہ نہیں کیا تھا تو یہ ثابت ہوا کہ انسان گناہ سے بچ سکتا ہے بہرحال انجیل مانتی ہے کہ آدم کے