تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 58
تکلیف نہ ہو صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ تمثیلی زبان ہے اور جو کچھ بیان کیا گیا ہے استعارہ کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔اسی طرح لکھا ہے :۔’’ اور آدم اور اس کی بیوی نے اپنے آپ کو خداوند خداکے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپایا۔‘‘ (پیدائش باب ۳آیت ۸) یہ بھی تمثیلی زبان ہے کیونکہ خدا تعالیٰ سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں قرآن کریم میں بھی ذکر آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ سے مخفی ہو۔خواہ زمین کی سطح پر کوئی چیز ہو یا تحت الثریٰ میں سب اس کے علم میں ہیں مگر بائبل بتاتی ہے کہ آدم اور حوا باغ کے درختوں میں چھپ گئے تاکہ خدا تعالیٰ انہیں دیکھ نہ سکے۔یہ الفاظ بھی اس واقعہ کے تمثیلی ہونے کا ثبوت ہیں۔پھر ایک اور بات لکھی ہے جس سے خدا تعالیٰ کے علم کی محدودیت کا پتہ چلتا ہے لکھا ہے۔’’ تب خداوند خدا نے آدم کو پکارا اور اس سے کہا کہ تو کہاں ہے۔‘‘ (پیدائش باب ۳آیت ۹) گویا وہ خدا جو زمین و آسمان کے ذرہ ذرہ کو جانتا ہے جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اس نے آوازیں دینی شروع کر دیں کہ ارے آدم تو کہاں ہے۔ارے آدم تو کہاں ہے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ تمثیلی زبان ہے ورنہ وہ تو عرش پر بیٹھا ہوا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔اور اگر وہ دیکھ نہیں رہا تو مخلوق کی نگرانی کس طرح کر رہا ہے؟ غرض بائبل بتاتی ہے کہ جب وہ باغ میں چھپ گئے تو خدا تعالیٰ نے انہیں آوازیں دینی شروع کر دیں کہ اے آدم تو کہاں ہے۔’’ اس نے کہا میں نے باغ میں تیری آواز سنی اور میں ڈرا کیونکہ میں ننگا تھا اور میں نے اپنے آپ کو چھپایا۔‘‘ ( پیدائش باب ۳ آیت ۱۰) کپڑے نہ ہونے کی وجہ سے آدم کا یہ خیال کر لینا کہ میں باغ میں چھپ کر خدا تعالیٰ کی نظروں سے پوشیدہ ہو جائوں گا یہ بھی عقل کے بالکل خلاف ہے۔غرض یہ حوالہ صاف طور پر بتا رہا ہے کہ اس جگہ ظاہری واقعہ مراد نہیں بلکہ تمثیلی رنگ میں اس کو بیان کیا گیا ہے اور استعارہ کی زبان اس کے اظہار کے لئے اختیار کی گئی ہے اور تمثیلی کلام اور استعارات ہمیشہ تعبیر طلب ہوتے ہیں اس لحاظ سے یہ بھی ایک تعبیر طلب کلام ہے نہ کہ حقیقی واقعہ۔پس جس کلام پر اس عقیدہ کی بنیاد رکھی گئی ہے کہ آدم نے گناہ کیا اور اس کا دل سیاہ ہو گیا ہم کہتے ہیں کہ وہ سارا کلام ہی تمثیلی ہے جیسے خدا تعالیٰ کا باغ میں پھرنا اس کا ٹھنڈے وقت سیرکے لئے آنا۔آدم کا اسے نظر نہ آنا اور پھر