تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 57
پھر یہ سوال ہے کہ آدم کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے گناہ کیا۔حالانکہ آدم کے باپ نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا نہ آدم کی ماں نے کوئی گناہ کیا تھا۔اگر بغیر اس کے کہ ماں باپ نے کوئی گناہ کیا ہو بیٹا گناہ کر سکتا ہے تو بغیر اس کے کہ ماں باپ نے کوئی نیکی کی ہو بیٹا نیکی بھی کر سکتا ہے اور اگر آدم نیکی کر سکتا تھا تو باقی لوگ کیوں نہیں کر سکتے؟ معلوم ہوا کہ اس میں ورثہ کا کوئی سوال نہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہی ایسا ہے کہ وہ ترقی بھی کر سکتا ہے اور تنزل بھی کر سکتا ہے آدم کا باپ گنہگار نہیں تھا بلکہ اس کا تو کوئی باپ تھا ہی نہیں۔مگر آدم نے گناہ کر لیا۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ گناہ اور نیکی دونوں خاص حالات میں ظاہر ہو سکتے ہیں اور ان چیزوں میں ورثہ کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔پس کفارہ ایک بلا ضرورت شئے ہے۔پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدم کا گناہ کس طرح بخشا گیا؟ اگر توبہ سے بخشا گیا تو اسی طرح اولاد کا گناہ بھی بخشا جا سکتا ہے اور کفارہ کی کوئی ضرورت تسلیم نہیں کی جا سکتی۔غرض وہ ساری بنیاد جس پر کفارہ کی عمارت کھڑی کی گئی ہے اور جس کو مدنظر رکھتے ہوئے عیسائیت کہتی ہے کہ چونکہ انسان گناہ سے خود بخود نجات نہیں پا سکتا اس لئے کفارہ پر ایمان لانا ضروری ہے بائبل اور خود انجیل کی گواہی سے باطل ثابت ہوتی ہے۔پھر بائبل سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آدم کا سارا واقعہ تمثیلی ہے اور اس پر کسی عقیدہ کی بنیاد رکھنا عقل کے سراسر خلاف ہے کیونکہ بائبل میں لکھا ہے کہ جب حوا نے درخت کا پھل کھا لیااور پھر آدم ؑ کو بھی دیا۔’’ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں۔‘‘(پیدائش باب ۳ آیت۷) درخت کا پھل کھانے سے ننگا ہو جانا یہ صاف بتاتا ہے کہ اس واقعہ میں تمثیلی زبان اختیار کی گئی ہے۔پھر لکھا ہے:۔’’ اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لئے لنگیاں بنائیں اور انہوں نے خداوند خدا کی آواز جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا سنی۔‘‘ (پیدائش باب ۳ آیت ۷و ۸) یہ الفاظ بھی اس واقعہ کے تمثیلی ہونے کی واضح دلیل ہیں۔ٹھنڈک اور گرمی پیدا کرنے والا خود خدا ہے اور اسے ان چیزوں کی کوئی احتیاج نہیں۔یہ نہیں کہ جس طرح لوگ گرمی کے موسم میں کوئٹہ اور مری چلے جاتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کو بھی ضرورت ہے کہ وہ ٹھنڈے وقت باہر نکلا کرے اور گرمی سے اپنے آپ کو بچائے مگربائبل بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ٹھنڈا وقت دیکھ کر اور یہ معلوم کر کے کہ ابھی سورج نہیں نکلا باغ میں پھرنا شروع کر دیا تاکہ گرمی سے اسے