تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 56

نیک وبد کی پہچان کے درخت میں سے کھا کر نیک وبد کو پہچاننے کی قابلیت پیدا کر لی تھی اس لئے خدا نے اسے باغ عدن سے باہر نکال دیا کہ کہیں وہ حیات کے درخت کا پھل بھی نہ کھا لے اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث نہ ہو جائے۔پھر پیدائش باب ۲ آیت ۱۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ سے پہلے آدم کے لئے موت مقرر نہ تھی کیونکہ لکھا ہے۔’’ جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا‘‘ جس کے معنے یہ ہیں کہ اگر آدم اور حوا اس میں سے نہیں کھائیں گے توہ نہیںمریں گے پس موت اس درخت میں سے کھانے کا نتیجہ تھی اگر نہ کھاتے تو وہ کبھی نہ مرتے۔اسی طرح پیدائش باب ۳ آیت ۴ میں آتا ہے کہ ’’ تم نہ تو اسے کھانا اور نہ چھونا ورنہ مر جائو گے‘‘ اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ موت کو اس درخت کا پھل کھانے کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔اسی طرح رومیوں باب ۵ آیت ۱۲ میں لکھا ہے کہ ’’ گناہ کے سبب سے موت آئی۔‘‘ پھر یعقوب باب ۱آیت ۱۵ میں لکھا ہے:۔’’گناہ جب بڑھ چکا تو موت پیدا کر تا ہے۔‘‘ ان حوالجات سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بائبل ایک طرف تو یہ کہتی ہے کہ اگر تم نے اس درخت میں سے کچھ کھایا تو مر جائو گے۔حالانکہ تھا وہ درخت حیات کا اور حیات کے درخت میں سے کھا کر انسان مرتا نہیں جیتا ہے۔دوسری طرف رومیوں اور یعقوب میں لکھا ہے کہ موت گناہ کے نتیجہ میں آئی یعنی اگر وہ گناہ نہ کرتے تو نہ مرتے۔اب ہم اس کے ساتھ پیدائش باب ۳ آیت ۲۳ کو ملاتے ہیں تو حیرت آتی ہے اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آدم کو باغ عدن میں سے نکال دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو وہ حیات کے درخت میں سے کچھ کھا کر ہمیشہ زندہ رہے۔حالانکہ جب گناہ کا نتیجہ موت تھا تو چونکہ وہ پہلے نیک وبد کے درخت میںسے کھا کے گنہگار بن چکا تھا اس لئے خواہ دس ہزار دفعہ بھی وہ اس درخت میں سے کھاتا وہ زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔پس یا تو یہ کہنا چاہیے کہ گناہ کا نتیجہ موت نہیں اس درخت کے کھانے کا نتیجہ زندگی ہے لیکن ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ گناہ کا نتیجہ موت ہے اور دوسری طرف بائبل یہ کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو باغ عدن میں سے نکال دیا تا ایسا نہ ہو کہ وہ درخت میںسے کچھ کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے معلوم ہوا کہ گناہ کا نتیجہ موت نہیں بلکہ اس درخت کا پھل کھانے کے نتیجہ میں گناہ کے باوجود انسان زندہ رہ سکتا تھا۔