تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 55

بھی نیک اور بد کو پہچانتے ہیں پس یہودیوں کے نزدیک تو اس کے یہ معنے ہوںگے کہ جیسے خدا اور اس کے فرشتے نیکی اور بدی کو پہچانتے ہیں اسی طرح آدم بھی نیکی اور بدی کو پہچاننے لگ گیا اور عیسائیوں کے نزدیک اس کے یہ معنے ہوںگے کہ جیسے باپ خد ااور بیٹا خدا اور روح القدس خدا نیکی اور بدی کو پہچانتے ہیں۔اسی طرح آدم بھی نیکی اور بدی کو پہچاننے لگ گیا۔اس حوالہ سے صاف پتہ لگ گیا کہ نیک اور بد کو پہچاننا خدا تعالیٰ کی صفت ہے اور جو اسے پہچانتا ہے وہ خدا جیسا ہو جاتا ہے یا خدا کی صورت پر ہو جاتا ہے یا بائبل کی رو سے اس صورت پر ہو جاتا ہے جس صورت پر اسے خدا نے پیدا کیا۔ضمناً میں یہ بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ حیات کے درخت کے بارہ میں بائبل کا خیال عجیب مضحکہ خیز ہے پیدائش باب ۲ آیت ۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ درخت ایک ہی تھا لکھا ہے خدا نے ’’ باغ کے بیچ میں حیات کا درخت اور نیک وبد کی پہچان کا درخت بھی لگایا۔‘‘ یہاں مفرد لفظ ’’ لگایا ‘‘ استعمال کیا گیا ہے ’’لگائے‘‘ جوجمع کا لفظ ہے وہ یہاں استعمال نہیںکیا گیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی درخت میں یہ دونوں صفات تھیں۔اس کے کھانے سے حیات بھی ملتی تھی اور اس کے کھانے سے نیک و بد کے پہچاننے کی طاقت بھی پیدا ہوتی تھی۔اس کے بعد آیت ۱۶،۱۷ میں لکھا ہے۔’’ خدا وند خدا نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے لیکن نیک وبد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا۔‘‘ یہاں سے بھی پتہ لگتا ہے کہ ایک درخت ہے اور ایک درخت سے ہی آدم کو روکا گیا۔اگر دو درخت ہوتے تو دونوں سے روکنا چاہیے تھا مگر وہ منع کرتا ہے ایک درخت سے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہی حیات کا درخت تھا۔اور وہی نیک وبد کی پہچان کا درخت تھا لیکن پیدائش باب ۳ آیت ۲۲،۲۳ میں لکھا ہے۔’’ اور خدا وند خدا نے کہا دیکھو انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا۔اب کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے۔اس لئے خدا وند خدا نے اس کو باغ عدن سے باہر کر دیا۔‘‘ یہاں دو درخت ہو گئے نیک وبد کی پہچان کا درخت الگ ہو گیا اور حیات کا درخت الگ ہو گیا۔چونکہ آدم نے