تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 586

جو تعلیم لوگوںکے لئے لائے ہیں وہ افراط اور تفریط سے منزہ ہے اور ایسی کامل درجہ کی تعلیم ہے کہ خواہ زمانہ کے حالات کتنے بھی بدلیں۔وہ کبھی متروک قرار نہیںدی جاسکتی یعنی دائمی اور غیر متبدل قانون ہے۔اور تمہیںپتہ لگ جائےگا کہ کون شخص ہدایت پانے والوں میں سے ہے اور کون نہیںیعنی جس شخص کو ایسی شریعت ملے جو کبھی منسوخ نہ ہو سکتی ہو اور نہ زمانہ کے حالات سے کبھی بدل سکتی ہو۔وہی شخص اور اس کے متعبین کامل ہدایت یافتہ کہلا سکتے ہیں۔اور جو لوگ اس سے الگ ہوتے ہیں وہ کبھی بھی ہدایت یافتہ نہیں کہلا سکتے۔کیونکہ جس شخص کو زمانہ کے بدلے ہوئے حالات کو دیکھ کر ہمیشہ اپنا ایمان اور عمل بدلناپڑتا ہے اس کے متعلق یہ تسلیم نہیںکیا جاسکتا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے وہی ہدایت ہوتی ہے جو قابل عمل ہو سوائے اس کے کہ وہ خود اس کو کسی زمانہ میںایک نئے الہام کے ذریعہ سے بدل دے بہر حال انسان اسکو نہیںبدل سکتا کیوں کہ کوئی انسان خدا کی تعلیم کا قائم مقام نہیں بناسکتا۔ڑ ڑ ڑ ڑ