تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 582
فَاصْبِرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ پس جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں تو اس پرصبرکر( کیونکہ تیرے رب کی سنت یہی ہے کہ رحم سے کام لیاجائے) اور الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَ سورج کے چڑھنے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بھی کیاکر اور رات کے مختلف حصوں اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى۰۰۱۳۱ اور(اسی طرح) دن کے سب حصوں میں بھی اس کی تسبیح کیا کر( تاکہ اس کے فضل کو حاصل کرکے) تو خوش ہوجائے۔تفسیر۔مفسرین کاقول ہے کہ اس جگہ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا سے صبح اور عصر اور اٰنَآئِ الَّيْلِ سے مغرب او ر عشاء اور اَطْرَافَ النَّهَارِ سے ظہر اور ضحٰی یعنی چاشت کی نمازیں مراد ہیں۔کیونکہ وہ بھی نصف کے کناروں پر ہو تی ہیںایک زوال سے پہلے اور ایک زوال کے بعد یاخالی ظہر کہ وہ دونوں نصف کے کناروں پر واقع ہے۔(درمنثور زیر آیت ھذا) وَ لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ اور ہم نے جو کچھ ان میںسے بعض لوگوںکو دنیوی زندگی کے زیبائش کے سامان دے رکھے ہیںتو اس کی زَهْرَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ طرف اپنی دونوںآنکھوں کی نظر کو پھیلا پھیلا کرمت دیکھ (کیونکہ یہ سامان ان کو اس لئے دیا گیا ہے) کہ ہم اس کے خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ۰۰۱۳۲ ذریعہ سے ان کی ازمائش کریں اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق سب سے اچھا اور باقی رہنے ولا ہے۔حل لغات۔زَھْرَۃٌ زَھْرَۃُ الدُّنْیَاکے معنے ہوتے ہیں بَھْجَتُھَا وَ غَضَارَتُھَا وَ حُسْنُھَا دنیاکی خوبصورتی اور حسن (اقرب)