تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 581

اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ کیا ان لوگوںکو( اس بات سے )ہدایت حاصل نہ ہوئی کہ ان سے پہلی گذری ہوئی قوموں میں سے بہتوں يَمْشُوْنَ فِيْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي کو ہم نے ہلاک کردیا یہ( لوگ) ان کے گھروں میںچلتے پھرتے ہیں اس میں عقل والے لوگوں کے لئے النُّهٰى ؒ۰۰۱۲۹ بڑے نشان ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے تاریخ شاہد ہے کہ جن گذری ہوئی قوموں کی وادیوں اور علاقوں میںیہ لوگ رہتے ہیںوہ بھی شرک میںمبتلا تھیںلیکن آخر تباہ ہوگئیں پھریہ کیوں اس سے نصیحت حاصل نہیں کرتے۔وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ اور اگر ایک بات تیرے رب کی طرف سے پہلے نہ گذرچکی ہوتی اور مدت بھی مقرر نہ ہوتی تو عذاب (ان قوموں مُّسَمًّىؕ۰۰۱۳۰ کے لئے) دائمی بن جاتا۔(اور ایک لمبے عرصہ تک جاری رہتا)۔تفسیر۔لَوْ لَا كَلِمَةٌ سے مراد اس جگہ پر رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف:۱۵۷) والا قانون ہے۔یعنی ہم یہ فیصلہ کرچکے ہیںکہ ہمارا رحم ہماری گرفت پرغالب رہتاہے اگر ہمارا یہ فیصلہ نہ ہوتااور گناہوںکی وجہ سے فوراً عذاب آجایا کرتاتو جس ملک پرعذاب آتاوہ اس کے لئے دائمی بن جاتااور ایک لمبے عرصہ تک جاری رہتااس عذاب سے نجات پانےکی کوئی راہ انہیںنظر نہ آتی۔