تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 54
معنے تو نہیں ہو سکتے کہ خدا تعالیٰ کے بھی اسی طرح ناک ، کان ، آنکھ اور منہ وغیرہ ہیں بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات آدم میں آ گئیں اور جب خدا تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا اور بتایا کہ تمہیں اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تم میری صفات کے مظہر بنو۔تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ نیک وبد کے پہچاننے کی صفت آدم میں نہ آتی۔پس شیطان نے آدم سے کہا کہ تمہیں خدا تعالیٰ نے اپنی صفات کا مظہر بنایا ہے اور اس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ نیک و بد کو پہچاننے کی طاقت رکھتا ہے پس جس طرح خدا نیک وبد کو پہچانتا ہے تمہیں بھی نیک وبد کو پہچاننا چاہیے اور اس کا طریق یہی ہے کہ اس نیک وبد کی پہچان کے درخت کا پھل کھا لو۔اگر تم اسے کھائو گے نہیں تو نیک اور بد کی پہچان کس طرح کرو گے۔اور جب نیک اور بد کو پہچاننے کی قابلیت تم میں پیدا نہ ہو گی تو تم خدا تعالیٰ کی صفات کے کامل مظہر نہیں بن سکو گے پس ضروری ہے کہ تم اس درخت کا پھل کھائو یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ اس درخت کا پھل کھا کر خدا تعالیٰ کی طرح ہو جائو یا تیسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ اگر تم اس درخت کا پھل کھا لو گے تو تم اس مقصد کو حاصل کر لو گے جس کے لئے خدا نے تم کو پیدا کیا ہے۔فرض کرو تمام واقعہ اسی طرح ہوا ہو تو اس کے بعد آدم کو اگر اجتہادی غلطی لگ گئی تو اس میں اس کا قصور کیا تھا۔ایک شخص آدم کے پاس آتا ہے اور آ کر کہتا ہے کہ تم کو معلوم ہے کہ تمہیں خدا کی شکل پر پیدا کیا گیا ہے اور تم کو معلوم ہے کہ اس کے معنے صرف اتنے ہیں کہ تم خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہو اور تم کو پتہ ہے کہ اس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ نیک وبد کو پہچانتا ہے پس اگر تم نیک وبد کی پہچان کے درخت کا پھل کھا لو گے تو تم اپنے مقصد پیدائش کو حاصل کر لو گے اور خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر بن جائو گے۔یہ اتنی زبردست دلیل تھی کہ آدم اجتہادی غلطی میں مبتلا ہو گیا اور اس نے سمجھاکہ یہ جو کچھ کہا جا رہا ہے بالکل درست ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں آدم کے ایک دفعہ دھوکا کھانے کے باوجود اگر آج بھی اسی رنگ میں لوگوں کے سامنے دلیل پیش کی جائے تو کئی لوگ آج بھی دھوکا کھا جائیں گے اور سمجھیں گے کہ خدا تعالیٰ کا منشاء یہی تھا کہ اس درخت کا پھل کھا لیا جائے یہ منشاء نہیں تھا کہ اسے نہ کھایا جائے۔غرض آدم کوغلطی لگنے کا امکان بائبل کے رو سے موجود ہے خود بائبل سے پتہ لگتا ہے کہ نیک وبد کو پہچاننا خدا تعالیٰ اپنی صفت قرار دیتا ہے۔پیدائش باب ۳ آیت ۲۲ میں لکھا ہے:۔’’ اور خداوند خدا نے کہا دیکھو انسان نیک وبد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا‘‘ اس جگہ ’’ ہم ‘‘ سے عیسائیوں کے نزدیک اقانیم ثلاثہ مراد ہیں یعنی ہم اقانیم ثلاثہ میں سے ایک کی مانند اور یہودیوں کے نزدیک ’’ہم ‘‘ سے خدا اور اس کے فرشتے مراد ہیں کیونکہ جیسے خدا نیک وبد کو پہچانتا ہے اسی طرح فرشتے