تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 575

اڑادی تھی تو اس کے بعد یہ کہنا اب خوب کھائو پیو عقل کے بالکل خلاف ہے۔پس کلا کے لفظ نے بتادیا کہ انہیںبھوک اور پیاس لگتی تھی مگر پھرسوال پید اہوتاہے کہ اس آیت کے کیامعنے ہوئے ؟ سو یادرکھنا چاہیے کہ پہلا دور انسانی جو آدم کے ذریعہ قائم ہوا وہ صرف تمدنی ترقی تک محدود تھا اللہ تعالیٰ نے اس وقت کی معلومہ دنیا میںحضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ سے ایک تمدنی حکومت قائم کی اور اس حکومت کی غرض یہ بتائی کہ ( ۱)۔ایک دوسرے کی کھانے کے معاملہ میں مدد کی جائے گی (۲)۔ایک دوسرے کی پینے کے معاملہ میں مدد کی جائےگی۔(۳)۔ایک دوسرے کی عریانی کو دور کرنےکے معاملہ میں مدد کی جائے گی ( ۴ )۔ایک دوسرے کی رہائش کے معاملہ میں مددکی جائے گی۔گویا کھانا۔پانی۔کپڑا اورمکان یہ چار چیزیں انہیں اس تعاونی حکومت میں حاصل ہوںگی۔پس اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَ لَا تَعْرٰى۔وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِيْهَا وَ لَا تَضْحٰى میں اللہ تعالیٰ نے دور تمدن کے حکومتی نظام کا ڈھانچہ بیان کردیا اور بتایا کہ اے آدم! اگر لوگ اعتراض کریں۔تو تو انہیںکہہ دے کہ اس حکومت کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ تم بھوکے نہیں رہو گے گویا تمہاری خوراک کی حکومت ذمہ دار ہوگی۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ تم ننگے نہیںپھرو گے کیونکہ تمہارے کپڑوں کی بھی حکومت ذمہ دار ہوگی۔تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ تم پیاسے نہیں رہو گے کیونکہ تمہیںپانی مہیا کرنے کی بھی حکومت ذمہ دار ہو گی اور چوتھا فائدہ یہ ہوگا کہ تم بے گھر بھی نہیں رہو گے کیونکہ تمہارے لئے مکانات مہیا کرنے کی بھی حکومت ذمہ دار ہوگی۔غر ض اس آیت میں اس نئے نظام کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ قائم کیا گیا۔اور لوگوں کو بتایا گیا کہ اگر اس نئے نظام کے ماتحت تم رہو گے تو تمہیںیہ یہ سہولتیں حاصل ہوںگی۔قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا (اور خدا تعالیٰ نے ) کہا تم دونوں (گروہ) اس میںسے سارے کے سارے نکل جائو تم میں سے بعض بعض کے يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَ لَا دشمن ہوںگے۔پس اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے۔تو جو میری ہدایت کی اتباع کرے گا