تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 574
سے کہا۔کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا۔عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیںپر جودرخت باغ کے بیچ میں ہے اس کے پھل کی بابت خدا نے کہاہے کہ تم نہ تو اسے کھانااور نہ چھونا۔ورنہ مرجائو گے تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ مرو گے بلکہ خداجانتاہے کہ جس دن تم اسے کھائو گئے۔تمہاری آنکھیں کھل جائیںگی اور تم خدا کی مانند نیک وبد کے جاننے والے بن جائو گے۔عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتاہے۔اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اس کے پھل میںسے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا۔اور اس نے کھایاتب دونوں کی آنکھیںکھل گئیں اور ان کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیںاور انہوں نے انجیرکے پتوں کوسی کر اپنے لئے لنگیاں بنائیں۔‘‘ (پیدائش باب ۳ آیت ۱تا۷ ) اس جگہ بائیبل نے ورق الجنۃ کی بجائے انجیر کے پتوں کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے انجیر کے پتے سی کر اپنے لئے لنگیاں بنائیں۔اب ہم دیکھتے ہیںکہ کیا انجیر اور ورق الجنۃ دو مختلف چیزیں ہیں یا ایک ہی چیز کے دو مختلف نام ہیں اس غرض کے لئے ہم علم تعبیر الرئویا کو دیکھتے ہیںتو ہمیں تعطیر الانام میںیہ لکھاہوا نظر آتاہے کہ اَلتِّیْنُ یُفَسَّرُ بِالصُّلَحَاءِ وَاَخْیَارِ النَّاسِ یعنی جب کوئی شخص رئویا یا کشف کی حالت میںانجیر دیکھے تو اس کے معنے صالح اور نیک لوگوں کے ہوتے ہیں۔اوریہی ورق الجنۃ کے معنے ہیں کیونکہ ورق پاکیزہ نسل کو کہتے ہیںاور ورق الجنۃ کے معنے تھے جنت کی پاکیزہ نسل۔پس قرآن اوربائیبل میں اس بارہ میںکوئی اختلاف نہ رہا۔دونوں اس امرپر متفق ہیںکہ شیطان جب آدم کو دھوکا دے چکا توآدم نے اپنی غلطی کااحساس کرتے ہوئے مومنوںکی جماعت کو اپنے ساتھ ملاکر شیطانی تدابیر کو ناکام کردیا۔شیطان نے چاہا تھا کہ اس ذریعہ سے وہ آدم کو شکست دےدے مگر بجائے اس کے کہ آدم کا یہ فعل ان کے لئے کسی مستقل نقصان یاخرابی کاباعث بنتاان کے اندر ایک نئی بیداری پیدا ہوگئی اور انہوں نے مومنوں کی پاکیزہ جماعت کو اپنے ساتھ ملاکر شیطان کے پھیلائے ہوئے فتنہ کو کچل کر رکھ دیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم کو چن لیا اور اس پررحم کی نظر ڈالی اور اسے صحیح طریقہء کار بتادیا اور اس نے شیطان کی تمام تدابیر کو خاک میں ملادیا۔لوگوں نے غلطی سے قرآن کریم کی آیت اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَ لَا تَعْرٰى۔وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِيْهَا وَ لَا تَضْحٰى کے یہ معنے لئے ہیںکہ آدم ایسے مقام پررکھا گیا تھا جہاں نہ اسے بھوک ہی لگتی تھی نہ پیاس۔حالانکہ اگر انہیں بھوک ہی نہیں لگتی تھی تو وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا (بقرة:۳۶)کے کیامعنے ہوئے ؟ جب خدا نے ان کی بھوک ہی