تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 570
مفید ہے وہ ہم کو عطا کر تاکہ ہم اس کی روشنی میں ہدایت کے راستہ پرگامزن ہو سکیں۔اس آیت میں لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًاکے الفاظ بتاتے ہیںکہ آدم سے صرف ایک اجتہادی غلطی ہوئی تھی جس میں اس کے عزم اور ارادہ کا کوئی دخل نہیں تھا۔چنانچہ قرآن کریم نے سورئہ اعراف میںبتایا ہے کہ جب شیطان اخلاص کاجبہ پہن کر آدم کے پاس گیا تو قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّيْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ(الاعراف:۲۲) وہ آدم اور اس کے ساتھیوںکے سامنے قسمیں کھاکھا کر کہنے لگا کہ میںتو آپ لوگوں کا بڑاخیر خواہ ہوں۔گویا ظاہری مخالفت کو چھوڑ کر وہ منافقانہ رنگ میں آدم کی جماعت کے ساتھ شامل ہوگیا۔اور اس نے اپنے اخلاص کاانہیںقسمیںکھا کھا کر یقین دلایا جیسا کہ سورئہ منافقون میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا یہی طرق بتایا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور قسمیںکھا کھا کر کہتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔خدتعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ درست تو ہے کہ تو اللہ کارسول ہے مگر خدا تعالیٰ اس بات پر بھی گواہ ہے کہ یہ منافق اپنی قسموںمیں بالکل جھوٹے ہیں۔اس لئے ان منافقوں سے ہمیشہ بچتے رہو۔یہی طریق زمانہ آدم کے منافقین کے سردار نے اختیا رکیا۔اور آدم کو اپنے اخلاص اور فدائیت کا یقین دلایا اس پر آدم نے یہ اجتہاد کیا کہ گو یہ شخص پہلے ابلیسی روح اپنے اندر رکھتاتھا مگر اب تو یہ مخالفت کاراستہ ترک کر چکا ہے اس لئے اب اس سے تعلق رکھنے میںکوئی ہرج نہیں۔چنانچہ اس اجتہادی غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس حالت امن میں وہ رہتے تھے اس سے انہیںنکلناپڑا لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا میں ان کی اسی اجتہادی غلطی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ شیطان نے آدم کو بغیراس کے کہ اس کا اپناارادہ ہوتا پھسلا دیا۔وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ١ؕ اور (یہ بھی یاد کرو کہ) جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم (کی پیدائش کے شکریہ میں خدا کو ) سجدہ کرو۔اَبٰى ۰۰۱۱۷ تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کردیا۔اس نے انکار کیا۔تفسیر۔بعض لوگ سوال کیاکرتے ہیںکہ سجدہ کا حکم تو ملائکہ کو دیا گیا تھا۔اگر ابلیس نے سجدہ نہیںکیا تو اس کا قصور کیا ہوا ؟ اس سوال کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بالکل حل کردیتی ہے آپ فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے سے محبت کرتاہے تو وہ جبریل کو کہتاہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتاہوں تو بھی اس