تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 569

ہے اگر میں کسی امر کے متعلق سوال کروں گا تو لوگ کہیں گے کیسا جاہل ہے اسے ابھی تک فلاں بات کا بھی پتا نہیں۔تو وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتاہے۔دیکھ لو حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑی عمر کے آدمی تھے مگر پھر بھی کہتے ہیںرَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى (البقرۃ:۲۶۱) دنیا کے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ احیاء موتیٰ پر کبھی غورہی نہیںکرتے نہ انسانی زندگی انہیں اعجوبہ معلوم ہوتی ہے۔نہ حیوانی زندگی انہیں اعجوبہ معلوم ہوتی ہے۔ہزاروں سال سے زندگی کا دور چلاآرہا ہے مگر انہوںنے یہ کبھی نہیںسوچا کہ انسان کی زندگی کس طرح شروع ہوئی ہے۔اس زمانہ میں صرف ڈارون کی ایک مثال ہے جس کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ زندگی کس طرح ظاہر ہوئی ہے اور وہ کیا کیا مدارج ہیں جن میںسے انسان گذراہے اس کی تحقیق غلط تھی یا صحیح بہر حال اس کے دل میںخیال پیدا ہوا اور اس کے بعد ساری دنیا میںایک رو چل گئی کہ دیکھیں دنیا کس طرح پید اہوئی ہے ؟ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اللہ تعالیٰ سے سوال کیاکہ رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى (بقرۃ:۲۶۱) گویا وہی خیال جو دنیوی اور مادی لوگوں کے دلوں میں ڈارون کے زمانہ میںپید اہو آج سے ہزاروں سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں بھی پید اہو ااور انہوںنے کہا اے میر ے رب یہ بے جان مادہ کس طرح زندہ ہو جایا کرتاہے؟ڈارون نے تو مادی احیاء کے متعلق جستجو کی تھی مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مادی زندگی سے کوئی غرض نہیں تھی انہیںروح کی زندگی مطلوب تھی اور انہوں نے چاہا کہ میں اللہ تعالیٰ سے یہ پتہ لگائوں کہ ارواح کسی طرح زندہ ہوا کرتی ہیںجب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ ابراہیم تو تو پچاس ساٹھ سال کا ہوچکا ہے۔اب یہ بچوں کی سی باتیں چھوڑ دے۔بلکہ اس نے بتایا کہ ارواح کس طرح زندہ ہوا کرتی ہیں۔پس ہر عمر میںعلم سیکھنے کی تڑپ اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ الٰہی میراعلم بڑھا۔کیونکہ جب تک انسانی قلب میںعلوم حاصل کرنے کی ہروقت پیاس نہ ہو اس وقت تک وہ کبھی ترقی حاصل نہیں کرسکتا۔پھر آدم کی مثال دیتاہے اور بتاتاہے کہ تم نسل آدم میں سے ہو۔آدم تم سے بڑاتھا چھوٹانہ تھا۔وہ تمہارا باپ تھا اور مامور من اللہ تھا۔اور اپنے دل میں خدا تعالیٰ کی اطاعت کا جوش رکھتاتھا جب ہم نے زمانہ کی ضرورت کے مطابق اس پر احکام نازل کئے تو گو وہ دل سے خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کا ارادہ کر چکا تھا مگر پھر بھی بعض باتوں کو وہ بھول گیایعنی ان کے بارہ میں اس سے غفلت ظاہر ہوئی تو تم جو ٓادم کے بیٹے ہو اور اس سے چھوٹے درجہ کے ہو کیوں ہر معاملہ میں خدا تعالیٰ کے یقینی احکام مانگتے ہو۔جو احکام آجائیںان پرعمل کرنے کی کوشش کرو۔اور جو نہ آئیںان پر خود غور کرو اور خدا تعالیٰ کی مدد مانگتے رہو۔اور اس سے ہمیشہ یہ دعاکرتے رہو کہ یا اللہ جو سچاعلم ہے اور ہمارے لئے