تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 568

نَجِدْ لَهٗ عَزْمًاؒ۰۰۱۱۶ میں ہمارا حکم توڑنے کے متعلق کوئی پختہ ارادہ نہیںتھا۔تفسیر۔اس آیت میں یہ بتایاگیاہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ا نسان بہت سے امور میں اپنی عقل استعمال کرے لیکن وہ شخص جو اس حکمت کو نہیں سمجھتا وہ چاہتاہے کہ جھٹ خدا کی وحی نازل ہو کر تمام تفصیلات بیان کردے اور مجھے سوچنا نہ پڑے۔فرماتا ہے یہ ٹھیک نہیںوحی جب مکمل ہو جائےگی تو جتنی ضروری باتیں ہیں اس میں بیان ہوجائیں گی۔اور جن باتوں کے متعلق خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان خود سوچ کر فیصلہ کرے وہ اس میںبیان نہیں ہوں گی ان باتوں کے متعلق ہدایت حاصل کرنے کا طریق یہ ہے کہ انسان مجملا ً یہ دعا کرتارہے کہ الٰہی جن جن شخصی یاقومی کاموں کے لئے مجھے ہدایت کی ضرورت ہو تو میرے دل پر ان کے متعلق روشنی نازل کر دیا کر۔تاکہ میں اور میر ی قوم گمراہ نہ ہوں اور میرے علم کو ہمیشہ بڑھاتا رہ۔دنیا میں عام طور پریہ خیال کیا جاتاہے کہ بچپن سیکھنے کا زمانہ ہوتاہے جوانی عمل کا زمانہ ہوتاہے اور بڑھاپا عقل کا زمانہ ہوتا ہے لیکن قرآن کریم کی رو سے ایک حقیقی مومن ان ساری چیزوںکو اپنے اندر جمع کرلیتا ہے اس کا بڑھاپا اسے قوت عمل اور علم کی تحصیل سے محروم نہیں کرتا اس کی جوانی اس کی سوچ کو ناکارہ نہیں کردیتی بلکہ جس طرح بچپن میں جب وہ ذرابھی ہولنے کے قابل ہوتاہے ہر بات کو سن کر اس پر فوراً جرح شروع کردیتاہے اور پوچھتاہے کہ فلاں بات کیوں ہے اور کس لئے ہے۔اور اس میںعلم سیکھنے کی خواہش انتہا درجہ کی موجود ہوتی ہے اسی طرح اس کا بڑھاپا بھی علوم سیکھنے میںلگارہتاہے اور وہ کبھی بھی اپنے آپ کوعلم کی تحصیل سے مستغنی نہیںسمجھتا۔اس کی موٹی مثال ہمیں رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلمکی مقدس ذات میںملتی ہے آپ کو پچپن چھپن سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ الہاما ً فرماتا ہے کہ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا۔یعنی اے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تیرے ساتھ ہمارا سلوک ایسا ہی ہے جیسے ماں کا اپنے بچہ کے ساتھ ہوتاہے اس لئے بڑی عمر میںجہاں دوسرے لوگ بے کار ہوجاتے ہیں اورزائد علوم اور معارف حاصل کرنےکی خواہش ان کے دلوں سے مٹ جاتی ہے اور ان کو یہ کہنے کی عادت ہو جاتی ہے کہ ایساہوا ہی کرتاہے تجھے ہماری ہدایت یہ ہے کہ تو ہمیشہ خدا تعالیٰ سے دعا کرتا رہ کہ خدایا میرا علم اور بڑھا۔میرا علم اور بڑھا۔پس مومن اپنی زندگی کے کسی مرحلہ میں بھی علم سیکھنے سے غافل نہیں ہوتا بلکہ اس میں وہ ایک لذت اور سرور محسو س کرتاہے۔اس کے مقابلہ میںجب انسان پرایسا دور آجاتاہے جب وہ سمجھتاہے کہ میں نے جو کچھ سیکھنا تھاسیکھ لیا