تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 567

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّ صَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ اور اسی طرح ہم نے اس( کتاب) کوعربی زبان کے قرآن کی صورت میںاتاراہے اوراس میںہرقسم کے انذار الْوَعِيْدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ اَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا۰۰۱۱۴ کو کھول کھول کر بیان کیاہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں یا (یہ قرآ ن) ان کے لئے (خدا کی) یاد کاسامان (نئے سرے) سے پیدا کرے۔تفسیر۔عیسائیوں کے اسلام لانےکی یہ ترکیب کی گئی ہے کہ قرآ ن کو ایسی زبان میں نازل کیا گیا ہے کہ ہر غیر متعصب اس کو سمجھ سکتاہے پس جب عیسائیوں کی آنکھیں کھل جائیںگی تو وہ اس کو ماننے لگ جائیںگے۔اور جو ضدی ہوںگے وہ اگر عقل سے نہیںمانیںگے تو عذابوں سے گھبراکر مان لیں گے۔یا قسم قسم کے عذابوں سے تباہ کردیئے جائیںگے اور قرآن کریم خدا کی یاد پید اکرنے کے لئے نئے نئے مضامین عیسائیوں کے سامنے رکھے گا جو ان کی ہدایت کا موجب ہوںگے۔اور ان کے دلوں میں نیکی کا مادہ پیدا کر دیںگے۔اس آیت میں قرآن کالفظ استعمال فرما کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ کتاب کثرت سے پڑھی جائےگی اور عربیا ً کہہ کر یہ بتایاہے کہ اس کے مفہوم کا سمجھنا بھی آسان ہوگا کیونکہ یہ ہر بات دلیل کے ساتھ بیان کرے گی۔فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ پس اللہ (تعالیٰ) جو بادشاہ ہے بڑی شان والا ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اور تو قرآن کی وحی اترنے سے پہلے قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰۤى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ١ٞ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ اس کے بارے میںجلدی سے کام نہ لے اور (مجملاً) یہ کہتا رہ کہ اے میرے رب میرے علم کو بڑھا اور عِلْمًا۰۰۱۱۵وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَ لَمْ ہم نے اس سے پہلے آدم کو( ایک امر کی) تاکید کی تھی مگر وہ بھول گیا۔اورہم نے خوب جانچ لیا کہ اس کے دل