تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 53
صرف ایک ہی ہے اور وہ بائبل کا خدا ہے جس نے حیات کے درخت کوجھوٹ بول کر موت کا درخت ظاہر کیا اور کہا کہ اس کے کھانے سے تم مر جائو گے۔اور یہ مرنا یا جسمانی ہو سکتا تھا یا روحانی مگر دونوں باتیں غلط تھیں جسمانی لحاظ سے بھی وہ مر نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ حیات کا درخت تھا اور روحانی لحاظ سے بھی وہ مر نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ نیک وبد کی پہچان کا درخت تھا یعنی انسان کو ایک نئی روحانی زندگی بخشنے والا تھا۔پس اگر گناہ کیا تو آدم نے نہیں کیا بلکہ نعو ذباللہ خدا نے کیا اور آدم کو دھوکا دیا۔یہاں عیسائیت یہ نہیں کہہ سکتی کہ خدا باپ نے جھوٹ بولا ہے خدا بیٹے نے جھوٹ نہیںبولا۔کیونکہ عیسائیت میں جب خدا تعالیٰ کا ذکر ہو تو اس سے مرادا قانیم ثلاثہ ہوتے ہیں باپ خدا بیٹے سے جدا نہیں۔اور بیٹا روح القدس سے جدا نہیں۔پس جب باپ خدا نے جھوٹ بولا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ بیٹے نے بھی جھوٹ بولا اور روح القدس نے بھی جھوٹ بولا۔پس اگر گناہ ورثہ میں آیا ہے تو بائبل کی رو سے ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آدم گنہگار نہ تھا بلکہ خدا یا دوسرے لفظوں میں یسوع گنہگار تھا جس نے نعوذبا للہ من ذالک جھوٹ بولا اور اسی پر سارا الزام آتا ہے۔بہرحال بائبل نے خدا تعالیٰ کو ایسی بھیانک شکل میںپیش کیا ہے جو نہایت خطرناک اور افسوسناک ہے اور ان حوالجات کی موجوگی میں یسوع ہرگز نجات دہندہ نہیں کہلا سکتا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جھوٹ بولنے والا اور دوسرے کو دھوکا اور فریب دینے والا نجات دہندہ ہو سکے۔بائبل بتاتی ہے کہ خدا نے جھوٹ بول کر آدم سے کہا کہ تم اس درخت کا پھل کھانے سے مر جائو گے اور تمہیں نقصان پہنچے گا۔حالانکہ وہ زندگی کا درخت تھا وہ نیک وبد کی پہچان کا درخت تھا اس کے کھانے سے نہ جسمانی لحاظ سے آدم مر سکتا تھا اور نہ روحانی لحاظ سے مر سکتا تھا۔پھر آدم کے گنہگار نہ ہونے کی یہ بھی دلیل ہے کہ اسے جو غلطی لگی وہ محض اجتہادی تھی قرآن کریم نے بھی یہی بتایا ہے کہ آدم سے اجتہادی غلطی ہو گئی اور اگر ہم بائبل کے واقعہ کو صحیح مانیں تب بھی یہی پتہ لگتا ہے کہ آدم سے اجتہادی غلطی ہوئی۔پیدائش باب ۱ آیت ۲۷ ،۲۸ میں لکھا ہے۔’’ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔خدا کی صورت پر اس کو پیدا کیا۔نر و ناری ان کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی انسان جس کو خدا نے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے اس میں مرد بھی شامل ہے اور عورت بھی۔انسان مرد بھی خدا کی صورت پر بنایا گیا ہے اور انسان عورت بھی خدا کی صورت پر بنائی گئی ہے اب خدا کی صورت پربنانے کے یہ