تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 52
کہا کہ جس روز تو نے اس میںسے کچھ کھایا تو مر جائے گا۔مرنے کے معنے جسمانی بھی ہوسکتے ہیں اور روحانی بھی۔لیکن کوئی معنے لے لئے جائیں دونوں صورتوں میں خدا تعالیٰ کی یہ بات بالکل غلط ثابت ہوتی ہے۔اگر روحانی موت مراد لو تو یہ بھی جھوٹ ہے۔کیونکہ نیک وبد کی پہچان سے انسان کی روحانی موت نہیں ہوتی بلکہ اسے روحانی زندگی ملتی ہے اور اگر جسمانی موت مراد لو تو یہ بھی جھوٹ ہے۔کیونکہ وہ زندگی کا درخت تھا۔جس کے کھانے سے موت نہیں آ سکتی تھی۔غرض بائبل کے خدا نے آدم کو دھوکا دیا کہ وہ درخت جو زندگی بخشنے والا تھا۔وہ درخت جو عقل پیدا کرنے والا تھا اس کے متعلق یہ کہا کہ اس کا پھل نہ کھائو۔ورنہ مر جائو گے اور حوا بھی یہی کہتی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ ’’تم نہ تو اسے کھانا اور نہ چھونا ورنہ مر جائو گے‘‘ ( پیدائش باب ۳ آیت ۳) صاف پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے نعوذ باللہ من ذالک غلط بیانی کی اور آدم کو دھوکا دیا اس کے مقابلہ میں جب شیطان نے کہا کہ ’’ تم ہرگز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اسے کھائو گےتمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جائو گے۔‘‘ ( پیدائش باب ۳ آیت ۵) تو اس میں کوئی جھوٹ نہیںتھا۔دونوں باتیں وہی تھیں جو اس درخت کے خواص میںشامل تھیں۔وہ حیات کا درخت تھا اور وہ نیک و بد کی پہچان کا درخت تھا یعنی اس کے کھانے سے زندگی بھی ملتی تھی اور اس کے کھانے سے نیک وبد کے پہچاننے کی قابلیت بھی پیدا ہوتی تھی۔پس شیطان نے آدم کو دھوکا نہیں دیا بلکہ بائبل کی رو سے خود خدا نے نعوذ باللہ آدم کو دھوکا دیا پھر اور آگے دیکھو جب آدم اور حوا نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو کیا وہ مر گئے؟وہ مرے نہیں بلکہ زندہ رہے اور شیطان کی بات ہی سچی نکلی کہ ’’ تم ہرگز نہ مرو گے‘‘ خدا تعالیٰ کی یہ بات کہ ’’ جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا ‘‘ غلط نکلی۔اسی طرح وہ اس درخت کو کھا کر جیسا کہ بائبل میں آگے ذکر آتا ہے نیک و بد کو بھی پہچاننے لگ گئے۔پس بائبل کے رو سے آدم اور شیطان کا کوئی قصور نہیں خود خدا نے ان کو دھوکا دیا آدم ؑ نے کوشش کی کہ وہ نیک وبد کو پہچاننے لگے اور آدمی بن جائے اور اس کو دنیا کا کوئی شخص بدی نہیں کہہ سکتا۔آدم نے نیکی کے راستہ میں ترقی کرنے کی کوشش کی اور شیطان نے کہا کہ خدا تمہیں دھوکا دے رہا ہے۔وہ کہتا ہے اس کے کھانے سے تم مر جائو گے حالانکہ تم مرو گے نہیں بلکہ زندہ رہو گے او رپھر اس کے کھانے سے تمہارے اندر عقل پیدا ہو جائے گی اور تمہیں سمجھ آ جائے گی کہ نیکی کیا چیز ہے اور بدی کیا چیز ہے اور بائبل خود مانتی ہے کہ اس درخت کا پھل کھانے سے ان کے اندر عقل پیدا ہو گئی اور وہ نیک و بد کو پہچاننے لگ گئے۔پس نہ آدم نے گناہ کیا اور نہ شیطان نے۔گناہ کا مرتکب