تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 563

فرماتا ہے یہ پیشگوئی اس وقت پوری ہوگی جب تمام اقوام میںبیداری پیدا ہو جائے گی۔اور مشر ک لوگ خصوصیت کے ساتھ نیلی آنکھوں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے مطلب یہ کہ اس دن شرک زیادہ تر نیلی آنکھوں والی قوموں میں ہوگا یعنی یوروپین اور امریکن لوگوں میں سے اور گو وہ پہلے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں یہ سمجھتے ہوںگے کہ ہم ہمیشہ دنیا پر حکومت کریںگے لیکن اس دن ان میں یہ کانا پھوسی شروع ہوجائےگی کہ تمہاری عمر تو صرف دس تھی یعنی دس صدیاں مراد یہ ہے کہ تمہاری ترقی کا زمانہ صرف ایک ہزار سال تھا۔تم اسی پر اتراگئے اور خدا تعالیٰ کی توحید کو بھول گئے۔نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ اِذْ يَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِيْقَةً اِنْ ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو وہ کہیں گے جب ان میںسے سب سے زیادہ ان کے مذہب پر چلنے والا کہے گا۔لَّبِثْتُمْ اِلَّا يَوْمًاؒ۰۰۱۰۵ کہ تم ایک تھوڑی سی مدت ٹھہرے ہو۔تفسیر۔فرماتا ہے نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ ہم ان کی باتوں کوخوب جانتے ہیںجس وقت ا ن میںسے سب سے بڑالیڈر یہ کہے گا کہ اگر حقیقت دیکھی جائے تو تم نے بہت تھوڑا عرصہ اس دنیا میںبادشاہت کی ہے۔لفظی طور پر تو اس آیت میں یہ کہاگیا ہے کہ تم نے ایک دن بادشاہت کی ہے لیکن یوم کے معنے چونکہ عربی زبان میں وقت کے بھی ہوتے ہیں اور یوم کے متعلق قرآن کریم میں آتاہے کہ اللہ تعا لیٰ کا ایک دن ہزار سال کا ہوتاہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(الحج:۴۸) خدا کا ایک دن ہزار سال کا ہوتاہے اور اس سے پہلے یہ بھی فرمایا ہے کہ تم ’’دس ‘‘رہے ہو اور دس سے مراد دس صدیاں بھی ہوسکتی ہیںجو ہزار سال کے برابر بنتی ہیں اس لئے اِلَّایَوْمًاکے بھی دو معنےہو سکتے ہیںکہ تم ’’یوم‘‘ خداوندی رہے ہو یعنی دس صدیاں اور یہ بھی کہ جب آخر میں سزا مل گئی تو عیش کا زمانہ بہت چھوٹاہوگیا۔اور یہی کہنا ٹھیک ہے کہ تم نے بہت تھوڑی دیر دنیا میں ترقی حاصل کی اور آخر میں تم کو ہلاک کر دیا گیا۔