تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 562

تو جب پیٹھ کی طرف سے ہوا آئےگی تو منہ میں سے آواز نکلے گی۔جیساکہ مریلی اور سیٹیوں میں ہوتاہے۔پس واقعہ وہی صحیح ہے جو ہم نے لکھا ہے اور قرآن کے الفاظ کے مطابق ہے مفسرین کو یہ غلطی لگی ہے کہ ایک توانہوں نے اسرئیلی روایتوں کو سچ سمجھ لیا۔دوسرے انہوں نے لغت پر غور نہیں کیا۔اگر وہ لغت پرغور کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ اثر کے معنے بات کے بھی ہیں اور الرسول کے معنے لغت کے مطابق معلوم رسول کے بھی ہیںنہ کہ جبرائیل کے۔مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وِزْرًاۙ۰۰۱۰۱ جو اس سے منہ پھیرے گا وہ قیامت کے دن ایک بہت بڑابوجھ اٹھائے گا ایسے لوگ اس حالت میں خٰلِدِيْنَ فِيْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ حِمْلًاۙ۰۰۱۰۲يَّوْمَ بڑی دیر تک رہیںگے اور قیامت کے دن یہ بوجھ اور بھی تکلیف دہ ہوگا۔جس دن کہ بگل میں پھونکا جائےگا يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ زُرْقًاۚۖ۰۰۱۰۳ اور اس دن مجرموں کو ہم اس حالت میںاٹھائیںگے کہ ان کی آنکھیںنیلی ہونگی وہ آپس میں يَّتَخَافَتُوْنَ۠ بَيْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا۰۰۱۰۴ آہستہ آہستہ باتیں کرینگے کہ تم توصرف دس( صدیاں اس دنیا میںحاکم )رہے ہو۔تفسیر۔یوم القیامۃ قرآن و حدیث سے دوثابت ہوتے ہیں ایک مرنے کا دن جس کے متعلق حدیث میںآتا ہے کہ مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ (مجمع الانوار جلد ۳ صفحہ ۱۸۳) یعنی جوشخص مرگیااس کی قیامت کادن آگیا اور ایک قیامت کادن وہ ہوگا جس دن سب اگلے پچھلے لوگ زندہ کرکے اٹھائے جائیںگے۔اس آیت میںجوپہلا یوم القیامۃ آیاہے اس سے مراد انسانی موت کادن ہے اور جودوسرا یوم القیامۃ آیا ہے اس سے مراد تمام قوموںکے زندہ ہوکر اٹھائے جانے کادن ہے جب مشرکین کے انجام کا ساری قوموںکو پتہ لگ جائے گا اور سب قومیںشرک سے نفرت کرنے لگ جائیںگی۔یہ موجود ہ زمانہ کے متعلق خبر ہے کہ اس میں ہر مشرک قوم دعویٰ کرنے لگ گئی ہے کہ درحقیقت وہ موحد ہے۔کیا ہندو اور کیا عیسائی سب کہنے لگ گئے ہیں کہ ہم تو ایک خدا کو مانتے ہیں۔ہمارے متعلق لوگوں کو غلط فہمی ہوگئی ہے۔