تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 561

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ تمہار ا معبود تو صرف اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔وہ ہرایک چیز کوجانتاہے۔عِلْمًا۰۰۹۹كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے لوگوں کی خبریں بیان کرتے ہیں۔اور ہم نے تجھے اپنے پاس سے وَ قَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ۰۰۱۰۰ ذکر (یعنی قرآن) عطافرمایا ہے۔تفسیر۔اس آیت میںیہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس واقعہ کی جو تفصیل ہم نے بیان کی ہے وہ صحیح ہے اور جوتفصیل اسرئیلی روایات میں آتی ہے وہ جھوٹی ہے کیونکہ قرآن کو خدا نے نازل کیا ہے اور خدا تعالیٰ ہی ہرچیز کو جانتاہے۔یہ واقعہ جس کا اوپر ذکر کیاگیا ہے مسلمان مفسرین نے اسرائیلی روایات کے مطابق یوں بیان کیاہے کہ ’’الرسول ‘‘سے مراد موسیٰ ؑنہیںتھے بلکہ جبرائیل تھے۔اور ’’اثر ‘‘سے مراد’’ بات‘‘ نہیںتھی جیسا کہ لغت میں لکھا ہے بلکہ قدموں کے نشان تھے(درمنثور زیرآیت طٰہٰ ۸۳ تا ۸۹) اور سامری نے یہ کہا تھا کہ جب جبرائیل ترے پاس آیاکرتاتھا تو تیری قوم کو تو وہ نظر نہیںآتا تھالیکن مجھے نظر آتا تھا۔میں نے ایک دن جبرائیل کے پائوں تلے کی مٹی اٹھالی پھر جب بچھڑا بنایا تو سونا پگھلا کر اس میں وہ مٹی ڈال دی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بچھڑا بولنے لگ گیا۔یہ قصہ بالبداہت باطل او رغلط ہے اول تو یہ کہ اگر یہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ اس طرح ہم تجھے پرانی باتیںبتاتے ہیںاور تجھے اپنے پاس سے حقیقت کی تفصیل عطا کرتے ہیںپھرتو ساری کی ساری حقیقت پرانی کتابوں میں موجود تھی۔کسی ایسے دعویٰ کی کیاضرورت تھی دوسرے اس بات کے ماننے کے لئے ہمارے مفسرین جیسے سادہ لوح آدمی چاہئیں کہ موسیٰ ؑکے اعلیٰ درجہ کے متبعین نے تو جبرائیل کو نہ دیکھا لیکن سامری جو کافرہی تھا اس نے دیکھ لیا۔پھر اس بات کوماننا بھی بڑی سادگی کی بات ہے کہ جبرائیل کے پائوں کی مٹی ڈالنے سے سونے کابچھڑا بولنے لگ گیا۔حالانکہ معمولی سنار بھی جانتے ہیں کہ اگر خول دار بت بنایا جائے اور اس کے منہ کی طرف ایک سوراخ کیاجائے اور اس میں مرلی کی طرح لکڑی کے پردے بنادئے جائیں اور ایک سوراخ اس کی پیٹھ کی طرف کیاجائے