تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 560
بائیکاٹ نہیںغیرت ایمانی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے کہا کہ انقطاع تعلق کے علاوہ اس دنیامیں تجھے یہ روحانی سزابھی ملے گی کہ جس معبود کی تو پوجا کرتاتھا ہم اس کو جلادیں گے اور اس کی راکھ کودریا میں پھینک دیں گے تاکہ تجھ پر یہ بات کھل جائے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اس جگہ یہ اعتراض کیا جاتاہے کہ بت توسونے کا تھا اس کو جلا کر اس کی راکھ سمندر میں پھینکنا ایک بے معنے بات ہے۔سونا جل کر راکھ نہیںہوا کرتااور اگر کشتہ بناکر اس کو راکھ کی طرح بھی کردیتے ہیں تب بھی اس میں بہت سی دوائیں پڑتی ہیں اسی وجہ سے لوگ دو تین تولہ سونے کا کشتہ بناتے ہیں لیکن یہ سونا فرعون کے دارالخلافہ کے امراء کا سونا تھا اس کا کشتہ بنانا آسان کام نہیںتھا۔عیسائی جوکہ یہودیت کے قائم مقا م ہیںاور جن کی کتابوں میں ابتدا ء ً یہ باتیں درج ہیںوہی یہ اعتراض کرتے ہیںکہ قرآن کریم میںلغو قصے درج ہیں(ینابیع الاسلام فصل سوم صفحہ ۴) حالانکہ قرآن کریم نے ان کی کتابوں کا لکھاہوا واقعہ درج کیا ہے اور اس صورت میں درج کیا ہے کہ وہ معقول ہوگیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ آواز نکالنے کے لئے لکڑی کو استعمال کیا جاتاہے کیونکہ اس میں آسانی کے ساتھ انسانی گلے کے مشابہ پردے پیدا کئے جاسکتے ہیں۔جیسے مرلی میں۔پس قرآن نے صرف اس طرف اشارہ کیا ہے کہ بت میں سے اس نے کس طرح آواز پیدا کرلی یعنی اس کے منہ کی طرف اس نے کچھ لکڑی استعمال کی جس میں مرلی کی طرح کے پردے بنائے جب ہواا س میں سے نکلتی توآواز پیدا ہوتی جب بت کو آگ میں ڈالا گیا۔تو سونا تو پگھلا مگر لکڑی جل کر راکھ ہوگئی جس راکھ کو بت سمیت اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا گیا۔لیکن چونکہ نسف کے معنے کاٹنے کے بھی ہیں اور دھاتوں کو ریتی کے ساتھ رگڑ کر کاٹاجاتاہے اور اسی طرح نسف کے معنی چھلنی میں ڈال کر چھاننے کے بھی ہیںاس لئے اس آیت کایہ مفہوم بھی ہے کہ ہم پہلے تو اس بت کو ریتی کے ذریعہ سے رگڑ کر اس کو ریزہ ریزہ کردیں گے۔پھر لکڑی کی راکھ سمیت اس کو چھلنی میں ڈالیںگے اور اس کے بعد راکھ اور باریک ذرات تو سمندر میں پھینک دیں گے اور سونے کے ریزے جو اب بت کی شکل میں نہیں رہے اور جن سے شرک پیدا نہیں ہوسکتاان کو قومی ضرورت کے لئے استعمال کرلیںگے کیونکہ ہماری غرض صرف خدا کی واحدانیت ثابت کرنا ہے۔