تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 559
رہا تھا۔سو میں نے تیری باتوں میںسے کچھ اختیار کرلیں اور کچھ پر ایمان نہ لایا اور جس باتوں پر میںایمان لایا وہ بھی اس لئے تاکہ تیری قوم دھوکا میںآکر مجھے اپنا لیڈر بنالے۔اس کے بعد جب میں نے مصلحت اس کے خلاف دیکھی اور تیرے پہاڑ پر جانے کے بعد تیری قوم کو میں نے ڈگمگاتے پایا تو وہ تعلیم جو پہلے میں نے اختیار کرلی تھی اسے میں نے پھینک دیااور جس طرح پہلے تجھ پر ایمان لانا میرے نفس نے پسند کیا تھا اب اس نے مجھے یہ صلاح دی کہ اسے چھوڑدوں کیونکہ جب میںنے دیکھاکہ تیری قوم شرک کی طرف جھکی ہوئی ہے تو ایک بچھڑابناکر ان کے آگے پیش کردیا تاکہ وہ مجھے اپنا لیڈر بنالیں۔یہ سب باتیں سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہاکہ تو نے قوم میںعزت حاصل کرنے کے لئے یہ طریق اختیار کیا تھا۔اب تیری سزایہی ہے کہ تجھے قوم میں ذلیل کیاجائے۔پس جب تک تو زندہ رہے تیرافرض ہے کہ جب بھی بنی اسرائیل کے پاس سے گذرے تو کہتاجائے مجھے کوئی نہ چھوئے کیونکہ موسیٰ نے مجھ سے تعلق رکھنے سے منع کردیاہے مگر یہ سزا بہر حال دنیوی ہے۔تیرے لئے ایک اور سزا بھی مقرر ہے جو ضرور پوری ہوکر رہے گی۔لوگ کہتے ہیںکہ اپنی قوم کے نظام کے لئے بھی کسی سے کلام کرنے کو روکنا جائز نہیں۔حالانکہ اگر اپنی قوم کا نظام قائم رکھنے کے لئے کسی سے کلام کرنے کو روکنا جائز نہیں تو سب سے پہلے مجرم حضرت موسیٰ ؑہیں جنہوں نے سامری کو حکم دے دیاکہ تو جب بھی بنی اسرائیل کے پاس سے گذرے تو یہ کہاکر کہ موسیٰ کے حکم کے مطابق میرے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھے۔حقیقت یہ ہے کہ قومی نظام کے مطابق قطع تعلقی ایمان کے مظاہرہ کا نام ہے۔اور اسے مقاطعہ نہیں کہاجاسکتا اگر یہ مقاطعہ ہے تو چاہیے کہ ہر مسلمان اپنے بچوں کوپنڈتوں کے پاس پڑھنے کے لئے بھیجاکرے تاکہ وہ وید کی باتیں سیکھیں یا عیسائی پادریوں کے پاس بھیجا کرے تاکہ وہ ان سے انجیل کی باتیں سیکھیں۔سارے پاکستان اور مصر میں شور مچاہواہے کہ عیسائی سکولوں میں استادوں کو انجیل پڑھانے کی اجازت نہ ہو۔ورنہ ایسے سکولوں میںمسلمان بچوں کو داخل کرنے سے منع کردیا جائے۔اگر جوش ایمان کے ماتحت ان لوگوں سے جوظاہر میں قوم کے ساتھ شامل ہوکر فریب کرتے ہیںکسی قوم کااپنی مرضی سے انقطاع کرنا ناجائز ہے تو پھر تو کوئی قوم اپنے ایمان کی حفاظت کرہی نہیں سکتی اگر کسی کے باپ کو کوئی گالی دیتاہے تو وہ اس سے کلام نہیںکرتا۔کیا اس کی نسبت کہاجاتاہے کہ وہ مقاطعہ کر رہا ہے۔یا یہ کہاجاتاہے کہ وہ غیرت کاثبوت دیتاہے۔اسی طرح اگر کو ئی شخص کسی گروہ میں شامل ہوکر اس گروہ کے عقاید کےخلاف آہستہ آہستہ اس کے نوجوانوں کو ورغلائے اور والدین اپنے بچوں کو اس سے ملنے سے روکیں تو یہ بھی