تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 558
قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يٰسَامِرِيُّ۰۰۹۶قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ ( اس پر موسیٰ سامری سے مخاطب ہوئے اور) کہا۔اے سامری تیراکیا معاملہ ہے اس نے کہا میںنے وہ کچھ دیکھا يَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ جو ان لوگوں نے نہیں دیکھا تھا۔اور میں نے اس رسول (یعنی موسیٰ )کی باتوں میںسے کچھ اختیار کرلیں (اور فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِيْ نَفْسِيْ۰۰۹۷قَالَ فَاذْهَبْ کچھ اختیار نہ کیں ) پھر (جب موقعہ آیا تو ) میں نے ان (ا ختیار کی ہوئی باتوں)کو بھی پھینک دیا اور میرے دل نے فَاِنَّ لَكَ فِي الْحَيٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ یہی چیز مجھے اچھی کر کے دکھائی تھی۔(موسیٰ نے ) کہا اچھا تو جا تیری اس دنیا میں یہی سزاہے کہ تو اس(دنیا) میں ہر مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيْ ظَلْتَ ایک سے یہ کہتا رہے کہ (مجھے) چھو ئو نہیں (یعنی مجھ کوموسیٰ نے گندہ قرار دے دیا ہے) اور (موسیٰ نے سامری سے عَلَيْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ۠ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِي الْيَمِّ نَسْفًا۰۰۹۸ یہ بھی کہا کہ) تیرے لئے ایک وقت مقرر ہے (یعنی سزا کا) جس کو تو ٹلا نہیں سکے گا۔اور تو اپنے معبود کی طرف دیکھ جس کے سامنے بیٹھ کر تو اس کی پرستش کیاکرتا تھا۔ہم اس کو جلائیںگے اور پھر اس کو سمندر میں پھنک دیںگے۔حلّ لُغَات۔اَثَرٌ کے معنے حدیث کے ہیں یعنی بات (اقرب) اور الرَّسُوْلُ میں الف لام معہود ذہنی کا ہے یعنی وہ رسول جس کو سب مخاطب لوگ بھی جانتے ہیںاور میں بھی جانتا ہوں یعنی موسیٰ علیہ السلام۔نَسَفَہُ کے معنے ہوتے ہیں عَضَّہُ اس کو کاٹا (اقرب) او ر نَسَفَ الشَّیْ ءَ کے معنی ہیں غَرْبَلَہٗ (لسان لعرب ) کسی چیز کو چھلنی سے چھانا۔پس لَنَنْسِفَنَّهٗ کے معنے ہوںگے ہم اس کو کاٹیں گے اور پھر اس کو چھلنی میںچھانیں گے۔تفسیر۔اس آیت کایہ مطلب ہے کہ سامری نے کہا کہ اے موسیٰ تیری قوم تو بے وقوف تھی میںعقلمند تھا میں نے تیرے وہ حالات دیکھے جو تیری قوم نے نہیںدیکھے۔یعنی وہ تو اندھادھند تجھے نبی مان رہی تھی میںنہیں مان