تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 556
مطابق سامرہ اس قبیلے کانام تھاجویہ کام کرتے تھے اور سامر اسے کہا جاتا تھا جواس قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔اب تو مختلف پیشے مختلف قوموںاور افراد میںپائے جاتے ہیں۔مگراس زمانہ میں چونکہ ابھی میل جول کے ذرائع بہت محدود تھے اور پیشہ وروں کو کام کے حصول میںبہت دقت پیش آتی تھی اس لئے معلوم ہوتاہے کئی کئی پیشے ایک ہی قوم میں اکٹھے ہوتے تھے گویا یہ ایک پیشہ ور قبیلہ تھا جو لوہار ترکھان سنار اور معمار وغیرہ کاکام جانتے تھے اورانہی کے ایک فرد سے اس فتنہ کی ابتداء ہوئی بلکہ اگر تاریخ کازیادہ گہرا مطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوتاہے کہ انہی لوگوںسے خفیہ سوسائٹیاں شروع ہوئی ہیں بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت میں بھی اسی قوم نے فتنہ اٹھایا تھااور اس وقت ان کے ایک لیڈر ہیرام نے جوحضرت سلیمان ؑ کے تعمیر کردہ معبد کا سب سے بڑاکاریگر تھا آپ کامقابلہ کیا تھا۔فری میسنز اپنے آپ کو اسی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اسی طرح ہماری جماعت میںمستریوںکا فتنہ ایک مشہور فتنہ ہے۔پس سامری ایک پیشہ ورقبیلہ کا فرد تھاجسے اپنے کام کی مناسبت کے لحاظ سے سامرہ کہا جاتا تھا اور سامری اس کا صفاتی نام تھا مگر آہستہ آہستہ یہی نام اس کا علم کے طورپرمشہور ہو گیا۔معلوم ہوتاہے یہودیوں میں یہ قبیلہ دیر تک طاقتور رہا ہے۔چنانچہ تاریخوںسے پتہ لگتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی مدینہ منورہ میں بنو قریظہ سنار اور لوہار کاہی کام کرتے تھے۔قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْيَتِيْ وَ لَا بِرَاْسِيْ١ۚ اِنِّيْ (ہارون نے) کہا اے میری ماں کے بیٹے نہ میری داڑھی (کے بال) پکڑ او ر نہ میرے سر کے بال پکڑ میں تو اس خَشِيْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ وَ لَمْ بات سے ڈرگیاتھا کہ تو یہ نہ کہے کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ پیدا کردیا اور میری بات کا خیال نہیں رکھا تَرْقُبْ قَوْلِيْ۰۰۹۵ (کہ قوم کی تنظیم قائم رہے۔) حل لغات۔ترقب تَرْقُبْ رَقَبَ سے ہے اور رَقَبَہُ کے معنے ہوتے ہیں اِنْتَظَرَہُ۔اس کا انتظار کیا اور جب رَقبَ الشَّیْ ءَ کہیںتو معنے ہوںگے حَرَسَہُ اس کی نگہبانی کی۔(اقرب)