تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 51

آگے لکھا ہے۔’’اور خدا وند خدا نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا۔کیونکہ جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا۔‘‘ (پیدائش باب ۲ آیت ۱۶و۱۷) گویا خدا نے عدن کے باغ میں ہر قسم کے درخت لگائے اور درمیان میں حیات اور نیک و بد کی پہچان کا درخت لگایا اور آدم ؑ سے کہا کہ تجھے اور تو تمام درختوں کے پھل کھانے کی اجازت ہے لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت میں سے کچھ نہ کھانا اگر کھائو گے تو مر جائو گے۔آگے حوا کی روایت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے کہا ’’ جو درخت باغ کے بیج میں ہے اس کے پھل کی بابت خدا نے کہا ہے کہ تم نہ تو اسے کھانا اور نہ چھونا ورنہ مر جائو گے۔‘‘ ( پیداش باب ۳ آیت ۳) غرض پہلے تو بائبل کی اپنی روایت ہے کہ خدا تعالیٰ نے آدم سے یہ کہا کہ اس نیک و بد کی پہچان کے درخت میںسے کچھ نہ کھانا ورنہ مر جائو گے اور پھر حوا کی روایت نے بھی اس کی تصدیق کر دی کہ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا تھا کہ نہ اس درخت کے پھل کو کھانا اور نہ اسے چھونا ورنہ مر جائو گے۔اب آدم کے پاس شیطان آتا ہے (شیطان کے لئے بائبل نے سانپ کا لفظ استعمال کیا ہے) وہ آ کر کیا کہتا ہے بائبل کہتی ہے کہ :۔’’ سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہر گز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اسے کھائو گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک وبد کے جاننے والے بن جائو گے۔‘‘ (پیدائش باب ۳ آیت ۵) ان روایتوں پرغور کر کے دیکھیںتو نہ آدم کا گناہ نظر آتا ہے نہ شیطان کا۔بلکہ سارا گناہ نعوذ باللہ خدا کا نظر آتا ہے ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ درخت زندگی کا درخت اور نیک وبد کی پہچان کا درخت تھا یعنی اس درخت سے زندگی حاصل ہوتی تھی اور اس درخت سے نیک وبد کے پہچاننے کی طاقت حاصل ہوتی تھی مگر بائبل کہتی ہے کہ خدا نے آدم سے یہ کہا کہ :۔’’ جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا ‘‘ (پیدائش باب ۲ آیت ۱۷) گویا خدا نے آدم ؑ سے جھوٹ بولا۔درخت تو وہ زندگی کا تھا درخت تو وہ علم کی ترقی کا تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے یہ