تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 537
کہ اس مظلوم قوم کی خدا تعالیٰ نے مدد کی اور اپنے فضل سے اس نے ان کے لئے کھانے اور پینے کا سامان مہیا کیا۔میں اس وقت پانی کی تحقیقات کو چھوڑتاہوں اور صرف من کی تحقیق کی طرف متوجہ ہوتاہوں۔بائیبل کا بیان پڑھنے کے بعد طبعاً یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ (۱) من کیا چیز تھی ؟ (۲) کیا اس کاوجود معجزانہ تھا ؟ (۳) کیا بنی اسرائیل اسے کھاکر ایک طویل مدت تک زندگی بسر کرسکتے تھے پہلے۔سوال کا جواب دیتے وقت خود بخود یہ سوال بھی پیدا ہوتاتھا۔کہ اس غذا کو من کانام بنی اسرائیل نے دیا تھا۔یا پہلے سے اس کا یہ نام تھا۔اگر بنی اسرائیل نے اسے اس نام سے پکارا تو کیوں ؟ کیا اس غذاکی کسی اندرونی خاصیت کی وجہ سے یاکسی او روجہ سے خروج باب ۱۶ آیت ۱۵ میں من کاسب سے پہلے ذکر ہے اس میں لکھاہے کہ جب بنی اسرائیل ایلیم روانہ ہوئے تو راستہ میں خوراک نہ ملنے کے سبب انہوں نے شور مچایا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان سے گوشت اور روٹی کا وعدہ کیا شام کو بے شمار بٹیر جنگل میں آگئے جنہیں پکڑ کر انہوں نے گوشت کھایا اور صبح کے وقت ایک چیز زمین پر پڑی ملی جو چھوٹی چھوٹی سفید رنگ کی تھی جسے دیکھ کر بنی اسرائیل آپس میں کہنے لگے ’’من ‘‘ کیونکہ و ہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے۔(عربی میں من کے معنے کون کے ہیں پس درحقیقت یہ بھی عربی لفظ ہےجو عبرانی نے استعمال کرلیا ہے فرق صرف یہ ہے کہ عربی میںمن جاندار کے لئے بولا جاتاہے غیر جاندار کے لئے نہیں مگر معلوم ہوتاہے عبرانی میں یہ لفظ بے جان کے لئے بھی استعمال ہونے لگ گیا تھا )۔تب موسیٰ ؑنے ان سے کہا یہ وہی روٹی ہے جو خداوند نے کھانے کو تم کودی ہے (خروج باب۱۶ آیت۱۳ تا ۱۵ ) اس آیت کی بنا پر بعض لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ من کالفظ اس جگہ بطور استفہام استعمال ہواہے اور اس کے معنے یہ ہیںکہ یہ کیا چیز ہے بعد میں یہ لفظ نام کے طورپر بنی اسرائیل میں استعمال ہونے لگا۔چنانچہ اسی بات کو آیت ۳۱ میں لکھا ہے۔’’اور بنی اسرائیل نے اس کانام من رکھا۔‘‘ بعض محققین جارج ایبرز کی اتباع میںاس تشریح کو غلط سمجھتے ہیں ان کاخیال ہے کہ لفظوں کی مشابہت سے مغالطہ ہوگیا ہے اصل میں یہ لفظ ’’منو‘‘ ہے اور قبطی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنے قبطی زبان میں کھانے کے ہیں۔اس لئے بنی اسرائیل نے من سوال او ر استفہام کے طور پر نہیںکہا بلکہ چونکہ خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ یہ موعودہ روٹی ہے انہوں نے اس کا نام منا(یعنی خوراک ) رکھ دیا۔کیونکہ اس کا کوئی اور نام انہیں معلوم نہ تھا۔ان کا خیال ہے کہ من استفہامیہ کا استعمال ارمیک زبان میں نہیں اور یہ قابل تعجب امر ہے کہ اس مفہوم میں جس میںارمیک زبان کا کوئی اور